منصوبہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل کیا جائے گا، 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع‘ عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کئے جانے کا امکان ہے:بھارتی میڈیا
بھارت کا متنازعہ پن بجلی منصوبہ پاکستان کے تسلیم شدہ آبی حقوق پر براہِ راست حملہ اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، خطے میں عدم استحکام کو ہوا دی جارہی ہے :شیری رحمان
نئی دہلی( آن لائن ) بھارت نے دریائے چناب پر متنازعہ پن بجلی منصوبے کی منظوری دیدی، یہ منصوبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا، اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی منظوری کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت کا متنازعہ پن بجلی منصوبہ پاکستان کے تسلیم شدہ آبی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ عالمی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔شیری رحمان نے خبردار کیا کہ دریائے چناب پر بھارتی منصوبہ پاکستان کی آبی، زرعی اور ماحولیاتی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کرے گا، جبکہ یہ منصوبہ دفاعی اور تزویراتی اعتبار سے بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرکے جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔