نواز،زرداری اورعمران مل بیٹھیں :رانا ثنااللہ

 سیاستدانوں کو غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کر لینا چاہئے:مشیر وزیراعظم 
 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہاہے کہ مسلم ن کے قائد نواز شریف، سابق وزیراعظم عمران خان اور صدر آصف علی زرداری مل بیٹھیں تو 70 سالوں کا بحران 70 دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کی برسی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مذاکراتی کمیٹیاں ان قائدین سے ہدایات لیتی ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے مذاکرات کیلئے 7 نام لئے ہیں لیکن اگر اس میں تین نام اور شامل کر لئے جائیں اور ان کی سوچ وہی ہو جو 21 اکتوبر 2023 کو نواز شریف کی تھی ،میرا 40 سال کا تجربہ ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھے بغیر بحران سے نہیں نکل سکتے۔سیاست دانوں کو مذاکرات کیلئے بیٹھنے سے پہلے غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ اگر اپنا آج کا سچ منوانا ہے تو ہمارا کل کا سچ بھی مان لو، کم از کم اظہار افسوس ہی کر لو۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِدفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ، پی ڈی ایم حکومت میں بھی ہم مذاکرات کا کہتے تھے،سابق وزیراعظم نواز شریف اور قائد مسلم لیگ ن خود چل کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس گئے تھے۔ان کاکہناتھاکہ کہ بانی پی ٹی آئی کی تاریخ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ مخلص نہیں، کوئی ایک شخص بتا دیں جس کے ساتھ بانی پی ٹی آئی نے وفا کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کے ترلے کر رہا ہے، پہلے کہتے تھے کہ غلامی نامنظور، اب کہتے ہیں غلامی سو بار منظور۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ میں ہمارا کوئی کام نہیں تھا، بانی پی ٹی آئی کے دور میں 40 ہزار بندے پاکستان آئے، ہم افغانستان میں جہاد کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں اور کامیاب بھی لیکن عمران خان کی تاریخ رہی ہے کہ انہوں نے کسی سے وفا نہیں کی، 15 دن میں ایسا کیا تعویذ آگیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں مذاکرات کا مخالف نہیں ہوں، سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہوتا ہے۔بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے 40 ہزار بندے افغانستان سے واپس آئے، پاکستان کے سوا سارے خطے میں امن ہوچکا ہے۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک آپس کی دھینگا مشتی میں گھرا ہوا ہے، اگر یہی حالات رہے تو بہت سے لوگ غیر متعلقہ ہوجائیں گے ، پاکستان ریموٹ کنٹرول جمہوریت سے آگے نہیں بڑھ سکتا ،یہ نہیں ہوسکتا صرف سیاستدان ہی رگڑا کھائیں۔ تاجروں کے نام پر ایک ایکشن کمیٹی بناکر لوگ نکلتے ہیں اور ریاست گھٹنے ٹیک دیتی ہے تو پھر اس پر سوالیہ نشان تو ہوں گے کیونکہ اس طرح لوگ جتھے بناکر نکلیں گے تو کس کس کی بات آپ مانیں گے ۔ان کاکہناتھاکہ میں بالکل اپنی پارٹی مسلم لیگ ن کے اندر ہوں لیکن جہاں خرابی ہوگی، اب چپ نہیں رہا جاسکتا اس پر بات کرنی پڑے گی، اس پر سوال کرنا پڑے گا، اس کا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔ ہمیں شاید اپنی طاقت کا اندازہ نہیں لیکن ہمارے دشمن کو ہے، جب آپ کے ارد گرد گھیرا ڈالا جارہا اور آپ کو دکھائی بھی دے رہا ہو تو کیا آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں، کیا خاموش رہا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میری تجویز ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کا عمل کامیاب ہونا چاہئے۔انہوں نے ملک کو موجودہ سیاسی بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی کمیٹی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن، حافظ نعیم الرحمٰن، شاہد خاقان عباسی، ڈاکٹر مالک بلوچ، آفتاب خان شیرپاوٓ، پیر پگارا، چودھری نثار ،علی محمد خان سمیت دیگر سٹیک ہولڈز کو کمیٹی کا حصہ بنانا چاہئے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’مذاکرات سے قوم نے امیدیں لگا لی ہیں، یہ مثبت انداز میں آگے بڑھنے چاہئیں اور کوئی پیشگی شرط نہیں ہونی چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے جیل میں عمران خان نے نہیں بلکہ جنرل (ر)قمر باجوہ اور ثاقب نثار نے ڈالا تھا۔ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن ذکر ضرور کریں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ فوج کا سابق سربراہ یہ سب کرنے کے بعد گالف کھیلتا رہے اور ہم ذکر بھی نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا عمل کامیاب ہونا چاہیے، کسی کی سیاست کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔