پنجاب میں دریاؤں کی شدید طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
لاہور میں دریائے راوی کی سطح میں کمی آنے کے بعد فوری خطرہ کم ہوا ہے، تاہم قصور، ملتان، سیالکوٹ، راجن پور، پاکپتن اور دیگر جنوبی اضلاع میں صورتحال اب بھی غیر معمولی اور خطرناک ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث ستلج کا پانی قصور کی طرف بڑھا، جہاں 1955 کے بعد سب سے بڑا سیلابی ریلہ ریکارڈ کیا گیا۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کے باوجود بہاؤ اب بھی 345,366 کیوسک ہے، جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ملتان اور اطراف میں دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ کے بریچنگ پوائنٹس کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے۔ 138 بستیوں سے 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی جاری ہے، جبکہ صدر اور جلالپور پیروالا کی 64 بستیاں براہِ راست خطرے میں ہیں۔ متاثرہ دیہات سے افراد کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ریلیف کیمپوں میں خوراک، پانی اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے شدید متاثر ہیں، حافظ آباد کے 40 دیہات زیرِ آب ہیں۔ چشتیاں کے نواحی علاقوں میں ستلج کی طغیانی سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، 50 کے قریب بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔ پاکپتن میں سیلابی ریلے کے باعث کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے اور کئی بستیاں زیرِ آب آئیں، جس سے زمینی راستے منقطع ہوگئے۔ سیالکوٹ، پسرور اور بجوات میں دیہات کا رابطہ منقطع اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 1769 موضع جات زیرِ آب آ چکے ہیں، جس سے تقریباً 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور 28 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ فیصل آباد، راجن پور، چشتیاں، بہاولپور، اوستہ محمد اور جعفر آباد میں ہائی الرٹ جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے پانی کا ریلا آزاد کشمیر کے چکوٹھی کے مقام پر داخل ہو رہا ہے۔لاہور اور نواحی علاقوں میں دریائے راوی میں طغیانی برقرار ہے، شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی کے مقامات پر پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، تاہم خطرہ تاحال موجود ہے۔ شاہدرہ پر بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی خطرے کی پیش گوئی کی ہے۔ 3 تا 4 ستمبر کے دوران پنجند ہیڈ ورکس سے 9 تا ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہیں۔ گڈو بیراج پر 5 تا 6 ستمبر اور سکھر بیراج پر 6 تا 7 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک کے بہاؤ کا امکان ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔بلوچستان بھی سیلاب کی زد میں آنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی کے مطابق 2 ستمبر کو دریائے سندھ کا پانی بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس سے جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد اور صحبت پور متاثر ہوسکتے ہیں۔ کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کر دیا گیا ہے اور سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔