اسلام آباد ہائیکورٹ؛ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست پر بڑی پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست پر بڑی پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی سے متعلق درخواست میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ کی جانب سے دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے تمام اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد عدالت نے پٹیشن کو باقاعدہ نمبر لگا کر پیر کے روز سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں اور سزا معطلی سے متعلق متفرق درخواستیں بھی زیرِ سماعت ہیں، جن میں ان کی طبی حالت اور جیل میں رسائی کے معاملات مسلسل اٹھائے جا رہے ہیں۔درخواست پر ابتدائی سماعت کے دوران وکلا سلمان اکرم راجہ، علی بخاری، نعیم پنجوتھہ اور خالد یوسف عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے معاملات میں پہلے متعلقہ جیل حکام اور انتظامیہ سے رجوع کرنا قانونی تقاضا ہوتا ہے، تاہم چونکہ آج عدالتی ہفتے کا آخری ورکنگ ڈے ہے، اس لیے اعتراضات ختم کر کے کیس کو پیر کے پہلے ورکنگ ڈے پر سننے کے لیے مقرر کیا جا رہا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آیا اس سے قبل بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی رہی؟ جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کبھی ملاقات کرا دی جاتی ہے اور کبھی روک دی جاتی ہے، جبکہ اب فیملی ملاقات بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ وکیل کے مطابق درخواست گزار مبشرہ اپنی والدہ سے ملاقات کی قانونی حق دار ہیں اور انہیں اس بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

سلمان اکرم راجہ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز ہے، ان کی حالیہ سرجری بھی ہو چکی ہے اور ذاتی معالج تک رسائی نہ ہونا تشویش ناک ہے۔ وکیل نے کہا کہ طبی معاملات کی حساسیت کے باعث یہ درخواست فوری نوعیت کی ہے، اسی لیے عدالت سے ایمرجنسی بنیادوں پر سماعت کی استدعا کی گئی۔ بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں طبی ریکارڈ، فیملی رسائی اور علاج کی سہولت سے متعلق فوری ریلیف مانگ چکی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کیس کو باضابطہ نمبر لگنے کے بعد پیر کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، جہاں بشریٰ بی بی کی ملاقات، طبی سہولتوں اور ذاتی معالج تک رسائی کے مطالبات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔