امریکا نے ایران کے گرد اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 2 ہزار میرینز پر مشتمل فورس مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کردی ہے، جبکہ اسی دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک سپر ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
تازہ پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور بحری سکیورٹی کے خدشات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ، جس کے ساتھ تقریباً 2 ہزار میرینز ہیں، سان ڈیاگو سے روانہ ہوچکے ہیں۔ امریکی منصوبے کے تحت خطے میں مجموعی طور پر تین طیارہ بردار بحری جہاز اور دو لینڈنگ گروپس تعینات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ مکمل تعیناتی نومبر تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔دوسری جانب برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی UKMTO کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل لگا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایجنسی نے بتایا کہ عملہ محفوظ ہے، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا فوری طور پر تعین نہیں ہوسکا۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ ٹینکر کی گنجائش تقریباً 25 لاکھ بیرل تھی، تاہم UKMTO نے جہاز کا نام، پرچم یا کارگو کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ واقعے کی ذمہ داری بھی تاحال کسی ملک یا گروپ نے قبول نہیں کی۔ UKMTO نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر برطانیہ میں ایک دوہری برطانوی-ایرانی شہریت رکھنے والے 25 سالہ شخص کو RAF فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق اسے مبینہ طور پر دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لیا گیا، جبکہ اس سے قبل گرفتار کیے گئے پانچ افراد کو پولیس ضمانت پر رہا کیا جاچکا ہے۔یمن میں بھی طائز کے محاذ پر حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ خطے میں یہ تمام پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے بحری سکیورٹی خدشات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔