لندن: برطانوی حکومت نے نئے بارڈر سیکیورٹی، اسائلم اینڈ امیگریشن بل کے تحت سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث غیر ملکی افراد اب برطانیہ میں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق، جنسی جرائم پر سزا پانے والے غیر ملکیوں کو پناہ گزین اسٹیٹس کے حصول کی اہلیت سے خارج کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام برطانیہ کے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ایسے افراد کو ملک میں تحفظ نہ دیا جائے جو کمیونٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ریفیوجی کنونشن کے تحت بھی کسی ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دہشت گردوں، جنگی جرائم میں ملوث یا "خاص طور پر سنگین جرم" کے مرتکب افراد کو پناہ دینے سے انکار کر سکے۔ برطانیہ میں ایسے جرائم وہ سمجھے جاتے ہیں جن پر 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
برطانوی ہوم سیکریٹری نے بیان میں کہا کہ:"جنسی مجرم جو ہماری کمیونٹیز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، انہیں برطانیہ میں بطور پناہ گزین رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہم ان جرائم کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور قانون کو اس کے مطابق سخت کر رہے ہیں۔"یہ اقدام برطانیہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور پناہ گزین نظام کو بدسلوکی سے بچانا ہے۔