سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ تحریرکوئی محض سرخیوں کامجموعہ نہیں؛یہ ان زخمیدہ داستانوں کاموجزن عکس ہے جوسرِنوشتِ دوہمسایہ اقوام کی رگِ جاں میں ابھرکربولیںبلکہ دوہمسایہ اقوام کی تاریخ،قربانیوں،اور آزمائشوں کاعمیق عکس ہے۔تاریخِ معاصرنے دونوں اطراف کے دِلوں میں مہمان نوازی اورشبِ ہجرت کے کریم لمحات ثبت کیے ہیں،اورساتھ ہی ایسے تلخ حادثات بھی رقم کیے ہیں جوسالِ تاریخ کی زنجیروں میں دہراتے گئے۔ کبھی مہمان نوازی کے رشتے قائم ہوئے،کبھی سرحدوں پرتلخیاں ابھریں،اوربعض اوقات بیرونی سازشوں نے بھی دلوں کوزخمی کیا۔اسلام نے ہمیں بھائی چارے،عفوودرگزر،اورانصاف کادرس دیا؛یہی بنیادی شریعتِ انسانی ہمیں اس عہدِامن کی طرف بلاتی ہے۔عدل،اورانصاف کایہی درس آجپاک افغان مذاکرات کی اہمیت کواجاگر کرتا ہے۔
ہم اس تحریرمیں امن کا پرچم اٹھاکرکہتے ہیں جوقومیں کل تک ایک دوسرے کے گھرکی چھت تلے انسانی ہمدردی کاخراج اداکیاکرتی تھیں،آج جذباتِ زخمیدہ میں جب کوئی بیان بلندہوتاہے تواس کاصلہ تشددبن کرسامنے آتاہے تویہ دنیاکیلئے شرمندگی بھی ہے اورہمارے لیے عبرت بھی۔تاریخی زاویہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیاکی پیچیدہ داستان میں ذاتی قربانیوں اور ملی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی اثرات اورعلاقائی سیاست نے بھی دلوں کوکھرچ ڈالا۔اسلامی تقاضہ یہ ہے کہ جب خون بہاہو،رنج وغم موجودہوں،توفاتحہ ودعاکے ساتھ انصاف کی راہیں تلاش کی جائیں؛نہ کہ انتقام کے احکامات کوعظمت سمجھاجائے۔اسی لیے یہ جلسہ کلام اورمذاکراتی عمل ایک موقع ہیزبانِ حکمت،قانونِ بین الاقوامی،اورشریعتِ انسانی کے امتزاج سے وہ راستے تلاش کیے جائیں جوخون ریزی کونہ صرف روکیں بلکہ اعتماد سازی کازینہ بھی بنیں۔
یہ وقتِ فکری اوراخلاقی امتحان ہے۔جہاں ایک طرف دونوں ممالک کی افواج اورپولیس نے قربانی دی،وہاں ہمیں یادرکھنا ہے کہ خلوص،صبراورامن کے اصولوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے۔دشمنی کے زخم گہرے ہیں،مگرقرآن وسنت کی روشنی میں مذاکرات کوامن،انصاف،اورانسانی ہمدردی کے محورپرآگے بڑھاناممکن ہے۔اسلام نے ہمیشہ خونریزی،انتقام اورپراکسی وارکی مخالفت کی،اورامن،بھائی چارہ،اورصبرکی تلقین کی۔قرآن کریم میں ارشادہے اوران کے ساتھ حسن سلوک کرواورامن قائم کرو۔( النسا:125)
ایک رپورٹ کے مطابق،پاکستان اورافغانستان نے دوحہ میں مذاکرات کے بعدفوری سیزفائرپراتفاق کیاہے،جواس سے پہلے ہفتے بھرشدیدسرحدی جھڑپوں کے بعدہوا،جو دونوں ممالک کے درمیان2021کے بعدسب سے بدترین تصادم تھے۔ اب استنبول میں ان زخموں پر مرہم رکھنے کی کوششوں میں میزبان بھی شامل ہوگئے ہیں۔
پاکستانی فوج نے مطالبہ کیاکہ افغان سرزمین پرکارروائی کرنے والے عسکریت پسندوں کوکابل قابوکرے۔اس ضمن میں عسکری اورپولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں اورزخمی ہوناسامنے آیا ۔اس صورت حال میں’’ہماری افواج اورپولیس اپنی جانیں قربان کررہی ہیں؛ہم چین سے سوتے ہیں کیونکہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں‘‘والاتصورایک دفاعی ماحول کی تمثیل بن جاتاہے،جہاں جانوں کی قربانی سلامتی کاحصہ شمارکی جاتی ہے۔یہ فقرہ احساسِ ذمہ داری اورسرحدی سلامتی کے جذبات کاصوتی عکس ہے۔اس بیان کودوجہات سے سمجھناضروری ہے۔ایک وہ مملکت کااندرونی ہیروِخیال،جواپنی حفاظت کیلئے اپنی جان وقف کردیتاہے؛دوسراوہ عوامی عمل،جوسرحدی تناؤمیں ریاست کے دفاعی اقدامات کوجائز قراردیتے ہوئے اپنی سب سے قیمتی متاع اپنی زندگی قربان کردیتے ہیں۔
عسکری اورپولیس اہلکاروں کی شہادت اورقربانی کاحوالہ محض جملوں کانہیںیہ حالیہ واقعات کی بربادی اورفریقین کے درمیان جھڑپوں کانتیجہ ہے،جنہوں نے تشویش کوبڑھایا۔بین الاقوامی اورمقامی خبریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حالیہ سرحدی کشمکش میں مرنے والے اورزخمی ہوئے افرادہوئے ہیں اورمذاکراتِ سلامتی(دوحہ اوربعدازاں استنبول) اسی پس منظرمیں ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی ایک دستاویزکے مطابق دسمبر2024کے وقت پاکستان میں افغان باشندگان کی تعداد28ملین سے زائدتھی۔نیز جنوری 2025 تک اس میں رجسٹرڈمہاجرین اورریفیوجی جیسا درجے میں افغان باشندگان شامل تھے،جن کی تعدادتقریبا3ملین تھی۔گویاپاکستان کایہ بیانیہ کہ اس وقت 40لاکھ یااس سے کم افغان پاکستان میں موجود ہیں حالانکہ دقیق تعدادمختلف ہے۔یہاں مہمان نوازی کی طویل مدت(چاردہائیاں)کاحوالہ بھی دستاویزمیں موجودہے کہ پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کیلئے طویل عرصے سے میزبانی فراہم کی ہے۔
پاکستان کایہ دکھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سردجنگ،سوویت یلغار،بین الاقوامی بحران،اورحالیہ دہائیوں کے نتائج کے طورپرلاکھوں افغان پاکستان میں آئے’’ہم نے افغانستان کے لوگوں کی40برس مہمان نوازی کی40لاکھ یا اس سے کچھ کم افغان یہاں بیٹھے ہیںان کی تین چارنسلیں یہاں جوان ہوئیںجن لوگوں سے ہم دوحہ میں بات کررہے تھے،وہ سارے پاکستان میں ہی جوان ہوئے ہیں‘‘۔یہ بیان حقائق کی سمت تاریخی یاددہانی اوراخلاقی الزامات کاامتزاج ہے کہ پاکستان نے طویل عرصہ تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اعدادوشمارکاحوالہ دینااس لئے ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ملک کی ایسی قربانی تاریخ میں کہیں بھی میسرنہیں۔اس کلام میں دوتہذیبی نکات پوشیدہ ہیںاول:مہمان نوازی کا تاریخی قرضہ؛دوم:وہ اقتصادی وسماجی دباؤجس سے میزبان قوم محسوس کرتی ہے کہ وسائل اورسلامتی پچھلے تناسب کے تحت متاثرہورہی ہے۔بیانیہ میں یہ بھی شکوہ ہے کہ جن لوگوں کی مہمان نوازی کی گئی،وہی بعض جگہوں پرخلافِ سلامتی سرگرمیوں کامحورٹھہرے اورجس کے بارہاشواہد افغان طالبان حکومت کوبھی فراہم کئے گئے، طالبان کاان تمام احسانات کو یکسرمستردکردینے کی پالیسی اس الزام کی سختی وجہِ بحث اورمذاکرات کاباعث بنی۔
ان حالات میں پاکستانی قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتاکہ جس قوم نے آپ کی اتنی مہمان نوازی کی ہو،آپ اس کے خلاف دہشتگردی کوسپورٹ کیوں کررہے ہیں اوروہ بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی پراکسی کے طورپراستعمال ہورہے ہیں۔وہ بھارت جوحال ہی میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت کاشکار ہو کر اقوام عالم میں اپناچہرہ چھپارہاہے،وہ اب افغان طالبان کوبدلہ کیلئے اپنے پراکسی کے طورپراستعمال کررہاہے۔
یہ سوال اخلاقی اورنفسیاتی دونوں سطحوں پرکھڑاہے،مہمان نوازی کاتصورایک تہذیبی فرض ہے،اوراسی تہذیب کے اندر قدیم احسان کااوربطورمسلمان قرآنی نصوص کے مطابق اس بات کامتقاضی ہوتاہے کہ احسان کابدلہ ماسوائے احسان کے اورکچھ نہیں ہوتامگربین الاقوامی سیاست میں احسان اورجغرافیہ کے بیچ پیچیدہ مفادات ہلتے رہتے ہیں۔حقائق کی روشنی میں پاکستانی قیادت نے بارہاکہاکہ افغان سرزمین سے عسکری کارروائیاں پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کامنبع ہیں؛کابل نے تردیدکی یاوضاحتیں پیش کیں۔یہی تنازع مذاکرات کی بنیادرہا۔اس نکتے کومحض اخلاقی سوال کہہ دینا آسان ہے،مگرعملی دنیامیں یہ الزام جنگ اورامن کی کسوٹی بن چکاہے جس کی لپیٹ میں سیاسی بیانات اورفوجی کاروائیاں جاری ہیں۔
حالیہ وقفے میں دوحہ میں طے پائے ہوئے سیزفائرکے بعد(اوسطاً)چندروزتک بڑے واقعات کی اطلاعات کم تھیں،اوروزیر دفاع نے بھی چارپانچ روزکے سکوت کی طرف اشارہ کیا؛مگرساتھ ہی انہوں نے مذاکرات ناکام رہنے کی صورت میں کھلی جنگ کاراستہ کھلارہنے کی دھمکی دی ہے۔کیاہی بہترہوتااگراخوت اسلامی کانعرہ کلامی استعارہ نہ رہے بلکہ اس کیلئے معاشی شفافیت،روزگارکے مواقع میں مساوات اورسرحدی تجارتی معاہدوں کی اہمیت پرزوردے کریہ سمجھایاجائے کہ امن کے لفظی معاہدے جذباتی سطح پردیرپانہیں رہتے،ان کیلئے صدقِ دل سے دوطرفہ عملدرآمدضروری ہے جبکہ افغانستان یہ بھی جانتاہے کہ وہ ایک لینڈلاک ملک ہے اوراس کامعاشی،معاشرتی،اخلاقی اوراقتصادی دارومدار پاکستانی سرزمین سے جڑاہواہے۔ان حالات میں بھارت کی پراکسی بن کرپاکستان پردباؤڈالنے کی بلیک میلنگ پالیسی کن خطرات سے دوچارکرسکتی ہے۔
پاکستان اورافغانستان کے مابین شدیدسرحدی جھڑپوں کے بعد،ایک فوری سیزفائرکامعاہدہ دوحہ قطرمیں طے پایا۔اس کے فوراًبعد،فریقین نے استنبول میں دوسرادورشروع کرنے کافیصلہ کیاتاکہ معاہدے کے نفاذکاطریقہ کار،نگرانی کانظام،اور دیرپاامن کاڈھانچہ وضع کیاجائے۔ترک میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کامقصدصرف مذاکراتی نشست نہیں بلکہ عملی امن کاآغازتھاجہاں نمٹنے کیلئے تین مرکزی پوائنٹس پرگفتگوکی گئی۔
دوحہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے یہ عہدکیاتھاکہ وہ ایک دوسرے کی سرزمین کااحترام کریں گے،اورایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائی یاحمایت نہیں کریں گے۔ اس پس منظرمیں پاکستان نے براہِ راست افغانستان کوبھارت کی پراکسی کے طور پر کام کرنے کاالزام تونہیں دیامگرپاکستان ایسی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتاہے جن کو بیرونی طاقت کی معاونت کہاجاتاہے۔اس طرح یہ بیان سب سے زیادہ دکھ کی بات کاتناظراختیارکرتاہے،جس میں مہمان نوازی کاتقابل تحفظاتی الزامات سے کیاجاتاہے۔
(جاری ہے)