سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
جس کااظہارباجوہ نے دو درجن صحافیوں کوبلاکرکشمیرپراپنی بزدلی کااظہارکردیاتھا۔اس طرح ٹرمپ نے امریکامیں مودی کی طرف سے اس کی انتخابی مہم میں دوبڑے جلسوں کے خطاب کے نتیجے میں انڈین امریکی ووٹروں کی حمائت وصول کرنے کاحق اداکردیااورمودی نے باقاعدہ امریکی شہہ پرآرٹیکل370کو منسوخ کرکے کشمیرکوہندوستان کاحصہ قراردے دیا۔
عمران خان نے اپنے اقتدارکوبچانے اورامریکی دورے کوکامیاب ثابت کرنے کیلئے بھٹوکی نقل کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے مقامی سربراہان کوبڑی تعدادمیں لوگوں کوچک لالہ ائیر پورٹ پہنچنے کاکہاجہاں اپنے امریکی دورہ سے فاتح کے طورپرخودکوپیش کرنے کاڈرامہ رچایاگیا۔ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ٹرمپ کاکشمیرپرثالثی کادھوکہ قبول کرلیا۔ جب عمران خان اوراس وقت کے آرمی چیف امریکاجاکرلوٹے توان کے لبوں پرفخروانبساط تھا،جیسے قوم نے کوئی سفارتی معرکہ مارلیاہو۔عمران خان کی امریکی واپسی پر،چک لالہ کااستقبال گویاایک فتح کاجشن تھا،مگروہ فتح چندہفتوں بعد5اگست کواس وقت شکست میں بدل گئی جب مودی نے آرٹیکل370کاخاتمہ کر کے اقوام متحدہ کی ساری قراردادوں کوبھارتی آئین کی دفعہ میں تحلیل کردیا۔بھارت نے یکطرفہ طورپرکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کردی،اورامریکا نے خاموشی اختیارکی۔
یہ کیساثالث تھاجوایک طرف ثالثی کی بات کرتاہے اوردوسری طرف دشمن کوکشمیرکوہڑپ کرنے کاسیاسی آشیرواددیتاہے؟کیایہ ثالثی تھی یازمین کی نئی نیلامی کامقدمہ؟اگریہی ثالثی ہے،توپھرفلسطین کیلئے ان کاحل بھی سامنے ہے:غزہ کوامریکاکے حوالے کردیا جائے،امریکااسے دنیاکے سیاحوں کیلئے ایک خوبصورت علاقہ بناکریہاں جنگ کامکمل خاتمہ کردیا جائے گااوریہاں رہنے والے تمام فلسطینیوں کوپڑوسی عرب ممالک اپنے ہاں آباد کاری کیلئے اجازت دیں۔آخرہم کب سمجھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں جن سے اب بھی مسلمانوں
کووفاکی امیدہے؟
تاریخ کاجائزہ لیں توامریکانے دوسری جنگِ عظیم کے بعدسے اب تک تقریباتین درجن سے زائد ممالک میں براہِ راست یابالواسطہ مداخلت کی ہے۔کوریا،ویتنام،افغانستان، عراق،لیبیا،شام،اوریمن جیسے ممالک امریکی مداخلت کی بھینٹ چڑھے اورآخرکارامریکاکوان خطوں سے یاتوبے عزتی کے ساتھ نکلناپڑایاشکست کونیم فتح کے پردے میں چھپانا پڑا۔افغانستان میں طالبان کی واپسی اورویتنام میں ساگون کے زوال کے مناظراس حقیقت کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان کیاتھاکہ وہ امریکاکوغیرضروری جنگوں سے نکالیں گے۔مگرصدارت کے منصب پرفائز ہونے کے بعدان کے طرزِ عمل میں نہ صرف تبدیلی آئی بلکہ کینیڈا،گرین لینڈاورچین کے خلاف دھمکی آمیزلب ولہجہ اختیارکیاگیا۔نیٹو اتحاد کے خلاف شکوہ وشکایت اوریورپی یونین پردباڈالناامریکی خارجہ پالیسی میں تناؤکی علامت بن کرابھرا۔فلسطین کے مسئلے پر اسرائیل کوکھلی چھوٹ دینااورغزہ میں انسانی حقوق کی پامالی پرخاموشی،نہ صرف ٹرمپ کے دوہرے معیارکوآشکارکرتی ہے بلکہ انتخابی وعدوں کی صریحا ًنفی اورانحراف کی بدترین مثال ہے۔
ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں بالآخرپسپائی اختیارکی۔چینی اقتصادی ماڈل کی پائیداری اورعالمی سطح پراس کی توسیع نے امریکاکو گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردیا۔دوسری جانب حالیہ پاک-بھارت جنگ میں مغربی اسلحے کی برتری کابیانیہ بھی دم توڑگیا۔ بھارت اوراسرائیل کاگٹھ جوڑعالمی سطح پرعیاں ہوگیا۔موجودہ جنگ میں جس طرح پاکستان نے اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکونہ صرف مار گرایابلکہ ان کے آپریٹرزاوربیس اسٹیشنزکوبھی تباہ کیا،اس سے امریکااوراسرائیل کی عسکری برتری کاطلسم ٹوٹتادکھائی دیا۔اس فتح کے بعدامریکانے، اسرائیل کی ایماپر،فوری جنگ بندی کیلئے مداخلت کی تاکہ بھارت کومکمل ہزیمت سے بچایاجاسکے۔
اسرائیلی ہاروپ ڈرونز،جنہیں ناقابلِ شکست قراردیاگیاتھا،پاکستانی دفاعی قوت کے سامنے ناکام ہوگئے۔پاکستان نے نہ صرف ان ڈرونز کومارگرایابلکہ بھارت میں ان کے آپریٹنگ مراکزکوبھی تباہ کردیا۔اسرائیل کے18ہلاک شدہ ماہرین کی واپسی خفیہ اندازمیں ہوئی،مگر دنیاجان چکی تھی کہ اسرائیل اوربھارت کی عسکری برتری کاافسانہ محض جھوٹ کا غبارہ تھا۔اس شکست کے بعدامریکاکوجنگ بندی کیلئے ہنگامی مداخلت کرناپڑی،اسرائیل اوربھارت کی اپیل پرامریکانے فوری طورپرثالثی کا کرداراداکرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے اتحادیوں کوبچایاجاسکے۔مگرپاکستان کیلئے یہ تجربہ نیانہ تھا۔1962، 1965، 1999اورپھر 2019کے بعد،ہربارامریکانے پاکستان کووقتی وعدوں اورلالی پاپوں سے بہلایامگرزمینی حقائق وہی کے وہی رہے۔کشمیرکی صورتِ حال میں کوئی جوہری تبدیلی نہ آئی بلکہ صورتحال مزید الجھ گئی۔اب امریکانے ایک مرتبہ پھرپاکستان کوکشمیرپرثالثی کالالی پاپ دیاہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکابھارت کوچین کے خلاف بطورایک ’’جوکرکارڈ‘‘استعمال کرناچاہتاہے۔کواڈاتحاد میں بھارت کی شمولیت اسی حکمتِ عملی کاحصہ ہے،لیکن امریکا دوبارہ اس کمزوراورغیر مستحکم شراکت دار پربھروسہ کرنے کی غلطی کررہاہے۔
امریکانے ویتنام،افغانستان،لیبیا،شام،عراق اوراب یوکرین وغزہ میں جوکرداراداکیا،وہ اس کی ثالثی کی ساکھ پرسنگین سوالات اٹھاتاہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کومشورہ دیاکہ وہ اپنا20%علاقہ روس کودے دے اوربدلے میں امریکاامن قائم کرے گا۔غزہ میں ثالثی کامطلب یہ تجویزنکلاکہ اگرفلسطینی علاقہ خالی کردیں توجنگ خودبخودختم ہوجائے گی۔یہ وہ طرزِثالثی ہے جودرحقیقت جبرکی نئی شکل ہے۔
مودی کی انتخابی مہم میں پاکستان کومسلسل دھمکیاں دینا،اسی پرانے بیانیے کی تجدیدہے جس کے ذریعے بھارت میں ہندوقوم پرستی کوجلادی جاتی ہے۔اس کامقصدصرف الیکشن میں فتح حاصل کرنانہیں،بلکہ چین کے خلاف امریکی منصوبے’’کواڈ‘‘میں بھارت کی فعالیت کویقینی بنانابھی ہے۔مگرامریکااس حقیقت کونظراندازکررہاہے کہ بھارت نہ1962 میں چین کامقابلہ کرسکااورنہ آج اس قابل ہے۔ امریکاکا’’لنگڑاگھوڑا‘‘بھارت اپنی فوجی اورتزویراتی کمزوریوں کے سبب عالمی طاقتوں کے مہرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔امریکا کی ماضی کی روش،حالیہ اقدامات اورمستقبل کے اشارے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ عالمی طاقت محض مفادات کی اسیرہے۔اس کے وعدے،معاہدے،اورثالثی کی پیشکشیں صرف وقتی فائدے کیلئے ہوتی ہیں۔وقت آگیاہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کوازسرِنوتشکیل دے اورخودانحصاری کی راہ اختیارکرے۔ٹرمپ یاکسی بھی امریکی صدرکی ثالثی پرانحصارکرنااس فریب کے سوا کچھ نہیں کہ’’وہ سایہ جسے ہم منزل سمجھتے ہیں،سراب نکلتاہے‘‘۔
اگرفرض کریں کہ امریکاثالثی کے کسی فارمولے پرعملدرآمدکرتاہے،جیسے کہ کشمیرکودوحصوں میں بانٹ دیاجائے،یاگلگت بلتستان پاکستان کودے کرباقی انڈیاکو،یاپورے کشمیر کوغیرمسلح ریاست بنادیاجائے توکیایہ تجاویزکسی فریق کوقابلِ قبول ہوں گی؟اوراگرنہ ہوئیں،توٹرمپ کاریچھ نماغصہ کس پرگرے گا؟پاکستان کویہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خارجی ثالثی،خصوصاامریکاکی ثالثی،ایک سراب ہے جوہربارمایوسی کی چٹان سے ٹکرا کربکھرجاتاہے۔قوموں کے مسائل دوسروں کے رحم وکرم پرنہیں،اپنی خودی،حکمت اوراستقلال سے حل ہوتے ہیں۔کشمیرکامسئلہ ہویا کسی اورقومی مفادکاسوال،پاکستان کواپنی قوتِ فیصلہ،سفارتی حکمت اوراندرونی اتحادکوبنیادبنانا ہوگا کیونکہ ثالثی کی خوش فہمیاں بالآخرقومی وقاراورتاریخی سچائی کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہیں۔
واشنگٹن کی وہی کہانی ہے،جسے ہم باربارنئے کرداروں کے ساتھ دہراتے ہیں۔کل ضیاالحق نے مارشل لاکوجائزدکھانے کیلئے امریکا کی آشیربادلی،آج کوئی اورواشنگٹن کے استقبال پراپنی سیاست کی قلعی چمکاتاہے۔مگرانکل سام کی انگلی تھامنے والاہرراہرو،بالآخر اس بازارِسیاست میں بے لباس پایاگیاجہاں سودے صرف طاقت کے ہوتے ہیں۔آج بھی اگرٹرمپ کی ثالثی پربھروسہ کیاجائے توممکنہ تجاویزیہی ہوں گی کہ جوکشمیرجس کے پاس ہے،اسے ہی تسلیم کرلو،یااسے پٹے پرہمیں دے دو،بیس سال بعدبات کرنا!کیایہ کسی خودمختارریاست کیلئے قابلِ قبول ہے؟اوراگرنہ ماناگیاتو؟ٹرمپ کاغصہ،جیساکہ دنیانے دیکھا،ریچھ کے جپھے جیساہوتاہے،جس سے نکلنامحال اورسانس لینادشوار۔
جنہیں سراب دکھاکرخوابوں میں الجھایاجائے،وہ یاتوخام خیالی کے اسیرہوتے ہیں یاتاریخ سے نابلد۔پاکستان کواب یہ تسلیم کرلیناچاہیے کہ مسئلہ کشمیرکاحل نہ توامریکاکے کسی ثالث کے ذریعے ممکن ہے اورنہ کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم سے،جب تک قوم خوداپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری،عزم،اورداخلی اتحادپیدانہ کرے۔امریکاکے ہروعدے میں ایک پنہاں مفادہے اورہر ثالثی میں ایک پوشیدہ سودا۔وقت آچکاہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت،دفاعی صلاحیت،اورنظریاتی اساس کے بل پراپنی راہ متعین کرے،بصورت دیگر، ہربارکی طرح تاریخ فقط ایک اورفریب کااضافہ کرے گی۔
آخری بات،مگرسب سے کڑوی ہے کہ قومیں جوخواب بارباردیکھتی ہیں،وہ یاتونشے کی لت بن جاتے ہیں یاپھرمایوسی کی دہلیزپرلے جاکرچھوڑدیتے ہیں۔ہم نے ہرباریہ گمان کیا کہ کوئی آئے گا،ہمارامقدمہ لڑے گا،ہماری شہ رگ چھڑائے گامگرجوشہ رگ اپنے ہی ہاتھوں کی بے توجہی سے زخمی ہو،اسے کوئی غیرکیسے سہارادے سکتاہے؟تاریخ کے ماتھے پر لکھی تحریرواضح ہے کہ ثالثی کے خواب صرف وہی دیکھتاہے جسے اپنی دلیل،اپنی قوت،اوراپنی حکمت پریقین نہ ہو۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ماضی سے سبق لیں،دوستوں اوردشمنوں کوصرف جذبات کی بجائے حقیقت کی کسوٹی پرپرکھیں اور قومی مفادکواولین ترجیح دیں۔ورنہ ہربارلالی پاپ کی چمکدارپیکنگ میں زہرہمیں چکھناپڑے گا۔