سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
کشمیرکامسئلہ برصغیرکے دواہم ممالک،پاکستان اوربھارت،کے درمیان ایک دیرینہ اورپیچیدہ تنازع ہے،جس پروقتافوقتاعالمی قوتوں کی توجہ رہی ہے۔ان میں سرِفہرست امریکا ہے،جوکبھی ثالثی کے روپ میں،کبھی سٹریٹیجک شراکت دارکے طورپر،اورکبھی محض تماشائی کی حیثیت سے کرداراداکرتارہاہے۔یہ مقالہ اس تاریخی پس منظرکوبیان کرتاہے جس میں امریکاکی ثالثی کی پیشکشیں، پاکستانی ریاست کی توقعات،اوران کے نتائج کاگہراتجزیہ شامل ہے۔
تاریخ ایک خاموش مؤرخ ہے جوکبھی جھوٹ نہیں بولتی،بشرطیکہ اسے سننے والااہلِ فکرودانش ہو۔جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ، بالخصوص پاکستان اوربھارت کے باہمی تنازعات کے تناظرمیں،امریکی کردارایک ایساباب ہے جوبارہاامیدکے سراب میں لپٹا، مایوسی کی دھندمیں گم ہوکرابھرتارہاہے۔یہ رپورٹ اس تاریخ کے پیچ وخم کوبیان کرتی ہے جوامریکی ثالثی ،پاکستانی توقعات،اور بھارتی مصلحتوں کے بیچ الجھی ہوئی ہے۔
تاریخ اس بات کی بھی چشم دیدگواہ ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی مستقل دوست یادشمن نہیں ہوتا،مفادہی اصل میزان ہے۔مگراگراس کسوٹی پردنیاکی سب سے بڑی جمہوریت اور طاقتورریاست یعنی امریکاکوپرکھاجائے،تویہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ امریکااپنے مفادات کے حصول کے بعدانہی دوستوں کی قربانی دینے میں دیرنہیں لگاتا جنہوں نے اس کیلئے خطرات مول لیے ہوتے ہیں۔
دنیاکی سفارتی بساط پربعض چالیں شطرنج سے بھی زیادہ مہلک اورپیچیدہ ہوتی ہیں۔جب امریکاجیساسوداگرِامن،اپنے ہاتھ میں مفادات کی ترازوتھام کرثالثی کالبادہ اوڑھتاہے ،تومظلوم کوبسااوقات وہی کچھ ملتاہے جوذی روح کوکسی بے ضمیرتاجرکی تجویزکردہ سوداگری میں نصیب ہوتاہے:’’چپ رہو،زمین دے دو،باقی ہم دیکھ لیں گے‘‘۔
اہلِ نظرجانتے ہیں کہ برصغیرکی تاریخ کاہرورق اس المناک حقیقت سے لبریزہے کہ پاکستان نے جب جب امریکاکی جانب امیدو استقامت کے چراغ جلائے،توہواکارخ یوں بدلاکہ نہ چراغ بچے نہ تیل۔ماضی کاہرسنگ میل گواہ ہے کہ ہم نے ہرمرتبہ انکل سام کے دل لبھانے کیلئے اپناتن،من،دھن پیش کیا،اورجب صلہ مانگاتوکچھ جملہ معترضہ اورچندمشورے ہاتھ آئے۔
یادش بخیر،1962کی خزاں میں جب ہمالیہ کی چوٹیوں پرہندوستان اورچین کی توپیں گرج رہی تھیں،توعقل وتدبرکی بعض جگنو صفت آوازیں پاکستان کے ایوانِ اقتدارمیں یہ کہہ کرابھریں کہ’’اب وقت ہے،کشمیر حاصل کرنے کا‘‘،دانش مندی نے بھی بارہااکسایا کہ انڈیااورچین کی1962کی جنگ پاکستان کیلئے ایک سنہری موقع تھاکہ وہ کشمیرپرکوئی فیصلہ کن قدم اٹھاسکے۔اورکئی عسکری ماہرین اورسیاسی مبصرین نے اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت کومشورہ دیاکہ یہ وقت بھارت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکر کشمیرکی بازیابی کا ہے۔
شنیدیہ بھی ہے کہ چین کی طرف سے بھی خاموش سفارت کاری کے ذریعے اس بیش بہاقیمتی لمحات سے فائدہ اٹھانے کاپیغام بھی دیاگیامگراس وقت خودساختہ فیلڈمارشل ایوب خان نے امریکاکی کینیڈی انتظامیہ کی یقین دہانیوں پربھروسہ کرتے ہوئے غیرجانبداری اختیارکی،یہ سوچ کرکہ کل کینیڈی ثالث بنے گا،انصاف کی میزان تھامے گااورکشمیرہمارے ہاتھ آجائے گا۔ثالثی کرکے پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گااوریوں ایوب خان نے ناقابل معافی فحش اورظالمانہ غلطی کرکے واشنگٹن کے وعد فرداپریقین کر تے ہوئے بندوق نیام میں ڈال دی۔مگرتاریخ نے یہ دکھایاکہ امریکانے یہ وعدہ کبھی وفانہیں کیا۔لیکن نتیجہ؟امریکی ثالثی ایک خواب نکلی جوآنکھ کھلتے ہی بکھرگیا۔اس طرح 1962کی انڈیا-چین جنگ کے بعدپاکستان کی بے سودامیدیں آج بھی پاکستان کے مقتدرکے ایوانوں کی نالائقیوں کانوحہ پڑھ رہی ہیں۔
1950کی دہائی میں پاکستان نے امریکاکے ساتھ سیٹواورسینٹوجیسے دفاعی معاہدوں میں شمولیت اختیارکی۔ان معاہدات کے تحت پاکستان کوفوجی امدادتوملی،مگریہ امدادصرف کمیونسٹ خطرات سے نبٹنے کیلئے مخصوص تھی،نہ کہ بھارت جیسے علاقائی حریف کے خلاف۔1959کادفاعی معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھاجس میں کمیونسٹ ممالک سے تحفظ کا وعدہ توتھامگرعملی فائدہ صفررہا۔گویاپاکستان کیلئے امریکاکے ساتھ یہ دفاعی معاہدے ایک ایسے یکطرفہ نفع کی شکل اختیارکرگئے جس کامکمل فائدہ امریکا کے حق میں تھا۔
تاریخ اس حقیقت کی شاہدہے کہ امریکااپنے مفادات کی تکمیل کے بعدانہی دوستوں کی قربانی دینے میں لمحہ بھرکی تاخیرنہیں کرتا جنہوں نے اس کی جنگوں اورجارحانہ عزائم کو اخلاقی ،عسکری اورسفارتی مدد فراہم کی ہوتی ہے۔پاکستان اس تلخ تجربے سے سب سے زیادہ گزراہے۔1950کی دہائی میں سیٹواورسینٹوکے خواب دکھاکرپاکستان کوایک ایسے راستے پر گامزن کیاگیا جہاں منزل محض ایک سراب تھی۔دفاعی معاہدات کی چھتری تلے سوویت مخالف اقدامات کیلئے پاکستان کوآلہ کاربنایاگیا۔
مگرپھرجب1965کی جنگ میں ہم نے اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے اسلحہ اٹھایا،توامریکانے وہی مہیاکردہ ہتھیاربندکردیے۔امریکانے واضح کیا کہ فراہم کردہ دفاعی سازو سامان بھارت کے خلاف استعمال کیلئے نہیں دیاگیاتھاجبکہ1965کی جنگ میں امریکاسے عملی مددکی امیدکی گئی توہتھیاروں کی فراہمی روک کرامریکانے پاکستان کواس غلط فہمی سے نکال دیاکہ وہ کبھی بھارت کے خلاف پاکستان کامددگارہوسکتاہے۔تاریخ نے ان سنگین لمحات کواپنے سینے میں محفوظ کرلیاہے جب پاکستان کوبتایاگیاکہ’’یہ تمہیں کمیونسٹوں سے بچانے کیلئے دیے تھے،دہلی سے نہیں‘‘!اب یہ کوئی نئی بات تونہ تھی،مگرہماری امیدیں ہمیشہ وفاکی قاصدرہیں،بھلے وفاکا مسکن واشنگٹن کی پالیسیوں میں کبھی نہ ملا۔تاہم ایوب خان کوکینیڈی انتظامیہ نے یہ تاثرضروردیاکہ بھارت کے خلاف کوئی عسکری اقدام غیرضروری ہے،اوروہ ثالثی کاکردارسنجیدگی سے اداکریں گے۔نتیجہ؟مسئلہ وہیں کاوہیں رہا۔یہ پاکستان کیلئے ایک تلخ یاد دہانی تھی کہ وہ امریکاکے مفادات کامہرہ رہاہے،نہ کہ ایک خودمختارسٹریٹیجک حلیف۔
پھرجب1971کی شامِ ستم ڈھاکہ میں ڈھلی،توزخم خوردہ ریاست کونہ صرف آدھاوجودگنواناپڑابلکہ جنگی قیدیوں کی رہائی کی قیمت میں شملہ معاہدے کی وہ شق ماننی پڑی جس نے اقوامِ متحدہ کی کشمیرکے حق میں منظورکردہ قراردادوں کو تاریخ کی الماری میں بند کرکے اس پردھول چڑھنے دی۔کیایہ سیاسی حکمت تھی یامجبوری کی معذرت؟تاریخ کے ہ رمؤرخ کا قلم مختلف جواب دے گا،مگرہر جواب میں پاکستان کی تنہائی ضرورہوگی اوراس میں قصوروارہمارے مقتدرافرادہی نظرآتے ہیں۔
یادرہے کہ1970میں یحیٰی خان نے چین اورامریکاکے تعلقات بحال کرانے میں کلیدی کرداراداکیاتھامگراس کی’’اجرت‘‘نہ کشمیر کی صورت میں ملی،نہ مشرقی پاکستان کے تحفظ کی صورت میں۔نتیجتا1971کی جنگ میں نہ صرف پاکستان دولخت ہوابلکہ شملہ معاہدے کی وہ شق بھی مانی گئی جس نے اقوامِ متحدہ کی کشمیر پرقراردادوں کی اہمیت ختم کردی۔بھٹوکی سفارتکاری کوعظیم کامیابی کے طورپرپیش کیاگیامگروقت نے بتایاکہ اصل کامیابی کاغذپرتھی،زمینی حقائق میں نہیں۔
1999کی کارگل جنگ میں بھی پاکستان کوبالآخرامریکاہی کے دباپرپسپائی اختیارکرناپڑی۔اس جنگ کے دوران دونوں ممالک ایٹمی قوتیں بن چکے تھے،اورامریکانے ایک بار پھرامن کے نام پرپاکستان کوروکاجبکہ بھارت کی بالواسطہ حمایت جاری رہی۔نائن الیون کے بعدفاسق کمانڈومشرف ایک ہی امریکی فون کال پرڈھیرہوگیااورپاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکاکااس طرح ساتھ دیاکہ باقاعدہ طورپردو ملکی ائیر پورٹ امریکاکے حوالے کردیئے گئے جہاں پاکستانی ادارے کے کسی بھی فردکوداخلہ کی بھی اجازت نہیں تھی۔رسد،انٹیلی جنس،اورزمینی تعاون کے عوض کچھ مالی امداد توملی،امریکاکی طرف سے قراردی گئی اس دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان نے سترہزارسے زائد جانیں اورایک اندازے کے مطابق 110/ارب ڈالرکامعاشی نقصان بھی برداشت کرناپڑا۔جبکہ دوسری طرف،امریکانے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئرمعاہدہ کیااورسٹریٹیجک شراکت داری کومضبوط کیا اوراب تک امریکی تعاون اورپشت پناہی کی بناپربھارت پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے جس کے درجنوں مرتبہ اقوام عالم کے علاوہ اقوام متحدہ کوٹھوس شواہداورثبوت بھی مہیا کئے گئے لیکن ابھی تک امریکا کی سرپرستی میں چلنے والی لونڈی کاکرداراداکرنے والی اقوم متحدہ اپنے کردارنبھانے سے منہ موڑچکی ہے۔
2019میں جب ٹرمپ،کشمیرپرثالثی کاعندیہ دے کروزیرِاعظم عمران خان کوچکمہ دیاکہ تم ایک مرتبہ پھرکرکٹ ورلڈ کپ کی جیت جیسی خوشی قوم کودے سکتے ہو۔تاریخ نے ایک بارپھر ہمارے دروازے پر دستک دی لیکن قصر سفیدکے فرعون ٹرمپ نے عمران خان پرواضح کردیاکہ کشمیرپر مودی کویکطرفہ چیک کیش کروانے کی اجازت دے دی گئی ہے اوراب یہ تمہارا کام ہے کہ اپنے اقتدارمیں رہنے کیلئے اپنی قوم کے ساتھ کیاڈرامہ رچاناہے۔ عمران خان نے اپنے اقتدارکے دوام کو ترجیح دی کہ اس وقت کافوجی سپہ سالارقمرباجوہ کوبھی پینٹاگون نے اپنے ہاں بلاکربظاہر18گنزکاسلیوٹ پیش کرکے کشمیرکے معاملہ پرفیصلہ پرعملدرآمدکاحکم صادرکردیاتھا۔(جاری ہے)