پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے:مولانا فضل الرحمن

توہین رسالت کے مرتکب پانچ مجرموں کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کا عدالتی فیصلہ قابلِ تشویش ہے:وفد سے ملاقات میں گفتگو
 اسلام آباد ( آن لائن )جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے  لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے توہین رسالت کے مرتکب پانچ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ قابلِ تشویش ہے۔لمحہ فکریہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے بھی مطالبے کرنے پڑتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک تحفظ ناموس رسالت پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق مرکزی صدر تحریک تحفظ رسالت پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی،مفتی مجیب الرحمٰن اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد نے گزشتہ روز جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی۔مولانا فضل الرحمٰن نے  وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی متنازع قانون سازیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے  پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس اور پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ کریں گے