قومی سلامتی کا معاشی سکیورٹی سے براہ راست تعلق ہے، سٹاک ایکسچینج کے ایک لاکھ پوائنٹس عبور کرنے پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں، ملک درست سمت میں جارہا ہے:وزیراعظم

انتشار پھیلانے کیلئے  لشکر کشی کی گئی(شہبازشریف)

جون 2023 میں ہم ڈیفالٹ کے قریب تھے، ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،  امید کرتا ہوں  یہ ہمارا عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ آخری معاہدہ ہوگا
صوبائی اور وفاقی حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، اسے ہر صورت ختم کرکے نجی شعبے کے حوالے کرینگے‘ پالیسیوں کیلئے میںاور آرمی چیف  ایک پیچ پر ہیں‘ بہت جلد معاشی پلان پیش کروں گا:نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ  سے خطاب
،
اسلام آباد(بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔اسلام آباد میں 26 ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا قومی سلامتی کا معاشی سیکیورٹی سے براہ راست تعلق ہے،  سٹاک یکسچینج کے ایک لاکھ پوائنٹس عبور کرنے پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ مجموعی طور پر مشترکہ کاوش ہے، یہ سب وفاقی حکومت اور  سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی تعاون کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے پاکستان آہستہ آہستہ درست سمت میں جارہا ہے، دو روز قبل اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں سٹاک ایکسچینج تاریخی طور پر نیچے چلی گئی تھی لیکن اس کے بعد یہ ایک لاکھ پوائنٹ عبور کرچکی ہے، یہ تاریخی سنگ میل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر معاشی طور پر مضبوط ہونے کی بدولت ہماری نیشنل سیکیورٹی از خود بہتر ہوجائے گی۔جون 2023 میں ہم ڈیفالٹ کے قریب تھے، ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، میں امید کرتا ہوں کہ یہ ہمارا عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ آخری معاہدہ ہوگا‘پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے سیاست کی قربانی دی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، پاکستانی تاریخ میں بھی پہلے بھی بہت سارے بہترین منصوبے ترتیب دیئے گئے لیکن ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے جو محنت درکار تھی وہ نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں تمام پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جامع منصوبہ بندی کو کارآمد بنانے کے لیے بھرپور محنت کی جائی گی تا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جائے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں معاشی چیلنجز کے ساتھ سیکیورٹی کے مسائل بھی درپیش ہیں، دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ملک کے ہر طبقے نے قربانیاں دی ہیں، پاکستان سے اس ناسور کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج تھا لیکن نوازشریف کے دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے ملک سے اس کا خاتمہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشت گرد دوبارہ واپس آگئے ہیں، روزانہ کے بنیاد پر خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع اور بلوچستان میں پاکستان مخالف مکروہ عناصر دشمنوں کی مدد سے تخریبی کارروائیاں کررہے ہیں‘انہوں نے کہا صوبائی اور وفاقی حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، ہم اسے ہر صورت ختم کرکے نجی شعبے کے حوالے کریں گے۔ کاروبار کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے قوم کے کھربوں روپے کی بچت ہوگی، ان پالیسیوں کیلئے وہ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک پیچ پر ہیں۔ بہت جلد معاشی پلان پیش کروں گا، اسلام آباد میں جو کچھ ہوا اگر وہ سب نا ہوتا تو اپنا معاشی پلان پیش کر چکا ہوتا۔