ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تاجکستان کا دورہ شروع کر دیا ہے، جہاں وہ دو روز قیام کریں گے۔
اس اہم دورے کے دوران ان کی تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات متوقع ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری پر بات چیت ہو گی۔
اہم نکات:
دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔وزیراعظم تاجک قیادت سے خطے میں معاشی تعاون کو بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔سی پیک سے منسلک علاقائی ربط، تجارتی راہداریوں اور پانی و توانائی کی ترسیل جیسے امور بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
آذربائیجان کے دورے کی جھلکیاں:
یاد رہے کہ ایک روز قبل وزیراعظم نے آذربائیجان میں سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں:آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا:“بھارت پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”
تجزیہ:
تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے توانائی اور آبی منصوبوں میں تعاون کے امکانات روشن سمجھے جا رہے ہیں، خاص طور پر CASA-1000 پروجیکٹ جیسے علاقائی توانائی منصوبے اس دورے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔وزیراعظم کے یہ دورے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔