پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صدر مملکت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خط کا مثبت جواب دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت امن و امان کے مسئلے میں سنجیدہ ہے تو اسے فوراً این ایف سی اجلاس بلانا چاہیے، کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ صرف پریس کانفرنسز سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔بیرسٹر سیف نے وضاحت کی کہ قبائلی اضلاع کی ترقی پورے ملک میں امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم بدقسمتی سے وفاق نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فنڈز روک رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر آئینی طور پر فنڈز کی روک تھام سے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ علاقے اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں، اس لیے ان فنڈز کو صوبے کو ہی ملنا چاہیے۔
پشاور کے مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے، اور اگر وفاق ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز فراہم کرے تو وہاں کی محرومیاں دور کی جا سکتی ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کا کام خیبر پختونخوا کے خلاف بیانات دینا نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہیے۔