عابد گوندل
غزہ کی پٹی جو ایک عرصے سے اسرائیلی محاصرے، بمباری اور بین الاقوامی بے حسی کا شکار ہے آج ایک ایسے المیے سے دوچار ہے جس کی سنگینی کا اندازہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ المیہ صرف جنگ، تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کا ایک نیا اور تکلیف دہ پہلو سامنے آیا ہے اور وہ ہے غذائی قلت۔ فلسطینی عوام اب محض بموں سے نہیں بلکہ بھوک سے بھی مر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں 90 فیصد سے زائد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ہزاروں بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما سے محروم ہو رہے ہیں، کئی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں کیونکہ اْن کے جسم میں خود غذائیت کی شدید کمی ہے۔غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی، سرحدوں کی بندش اور امدادی قافلوں پر حملے اس صورتحال کو بدترین بنا چکے ہیں۔ انسانیت کا یہ قتلِ عام نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کا نتیجہ ہے بلکہ عالمی برادری کی خاموشی بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔ جب غزہ پر بمباری ہوتی ہے تو خبر بنتی ہے لیکن جب وہاں بچے بھوک سے بلک بلک کر جان دیتے ہیں تو دنیا کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔غزہ میں زرعی اراضی محدود ہے اور جو کچھ دستیاب ہے وہ یا تو اسرائیلی گولہ باری سے تباہ حال ہے یا پھر فوجی کنٹرول میں ہے۔ مویشیوں کی خوراک ختم ہو چکی ہے، کسان بیج، کھاد اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی زمینوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ ماہی گیری پر بھی پابندیاں ہیںاور ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ایسے میں مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، غزہ کی آبادی میں سے تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ وہ حالت ہے جہاں لوگوں کو خوراک کی کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی اور وہ سبزے کے پتے، جانوروں کا چارہ اور کبھی کبھار کچرا کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بین الاقوامی امدادی ادارے جب خوراک لے کر غزہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسرائیلی حکام انہیں یا تو روک لیتے ہیں یا انہیں اتنی سخت جانچ پڑتال سے گزارا جاتا ہے کہ امداد اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے۔ بعض اوقات خوراک خراب ہو جاتی ہے یا پھر اتنی تاخیر ہو جاتی ہے کہ وہ مرنے والوں کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔اس ساری صورتحال کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ بچوں پر اس کے اثرات سب سے زیادہ اور سب سے تباہ کن ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ایک بڑی تعداد شدید غذائی قلت کی شکار ہے۔ ان کے جسم کمزور، ہڈیاں نمایاں، آنکھیں دھنسی ہوئی اور چال بے جان ہے۔ اسپتالوں میں بنیادی ادویات کی قلت کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے مخصوص غذائیت سے بھرپور خوراک بھی ناپید ہے۔ کئی بچوں کی موت کا سبب نہ بمباری بنتی ہے، نہ گولی بلکہ بھوک بنتی ہے جو خاموشی سے ان کی سانسیں چھین لیتی ہے۔غزہ میں حاملہ خواتین کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ خوراک کی کمی کے باعث ان کے جسم نہ صرف خود کمزور ہو رہے ہیں بلکہ ان کے پیٹ میں پلنے والے بچے بھی قبل از وقت پیدا ہونے، وزن میں کمی یا دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ زچگی کے دوران خواتین کو اسپتالوں میں ادویات، سازوسامان اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کے
باعث غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سوال یہ ہے کہ دنیا اس ساری صورتحال پر خاموش کیوں ہے؟ کیا یہ بھوک، یہ قحط، یہ معصوم بچوں کی اموات دنیا کی بے حسی کا ثبوت نہیں؟ اسرائیل کو یہ کھلی چھوٹ کس نے دی ہے کہ وہ نہ صرف بمباری کرے بلکہ خوراک، پانی اور دوا جیسی بنیادی ضروریات پر بھی قبضہ کرے؟ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں کہاں ہیں جب غزہ میں لوگ گھاس کھانے پر مجبور ہوتے ہیں؟یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب یوکرین پر حملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا چیخ اٹھتی ہے، لیکن جب فلسطین میں بچے بھوک سے مرتے ہیں، تو میڈیا خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار فلسطینیوں کی بدترین محرومیوں میں سے ایک ہے۔غذائی قلت کا ایک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ اس کا اثر نسلوں تک رہتا ہے۔ جو بچے آج غذائی قلت کا شکار ہیں ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو چکی ہے۔ ان کی تعلیم، کارکردگی اور مستقبل کے امکانات بھی معدوم ہو چکے ہیں۔ یہ صرف موجودہ وقت کا المیہ نہیں بلکہ مستقبل کی ایک گہری اور بھیانک تصویر ہے۔مقامی امدادی تنظیمیں جنہوں نے طویل عرصے تک غزہ میں خدمات انجام دیں اب یا تو بند ہو چکی ہیں یا پھر ان کے دفاتر تباہ ہو گئے ہیں۔ کچھ کارکن مارے جا چکے ہیں اور جو باقی ہیں وہ خوف اور بے بسی کا شکار ہیں۔ ان تنظیموں کی بندش کا مطلب ہے کہ وہ معمولی امداد بھی جو کبھی کسی معجزے کی صورت میں پہنچتی تھی اب مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔یہ ایک خوفناک حقیقت ہے کہ غزہ میں بھوک اب ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اسے جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنا دیا گیا ہے تاکہ عوامی مزاحمت کو توڑا جا سکے۔ دشمن جانتا ہے کہ بندوق سے نہیں تو بھوک سے لوگ ہار مان لیں گے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ فلسطینی عوام نے کبھی ظلم کے آگے سر نہیں جھکایا، چاہے وہ ظلم بم سے آیا ہو یا بھوک سے۔تاہم، غیر جانبدار اور با ضمیر اقوام کو چاہیے کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسلامی دنیا جوخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے صرف خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے بھی متحد ہو جائے تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف خوراک کا نہیں بلکہ ارادے، اتحاد اور انسانی ضمیر کا ہے۔۔ اگر دنیا نے اس پر آنکھیں بند رکھیں تو یہ بحران مزید وسیع اور ہلاکت خیز ہو جائے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر اسرائیل پر دبائوڈالے کہ وہ محاصرہ ختم کرے، امدادی سامان کو داخلے کی اجازت دے اور خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی کو بحال کیا جائے۔ اگر ہم نے ا?ج غزہ کے بھوکے بچوں، ماو?ں اور بزرگوں کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل انسانیت ہم پر انگلی اٹھائے گی۔ بھوک سے بلکتے یہ جسم، سسکتی سانسیں اور خاموش فریادیں ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔