بے حسی

کاشف بٹ
بصیرپور کی سڑک پر بہنے والا خون صرف تین افراد کا نہیں تھا، وہ خون پانچ معصوم بچوں کے مستقبل کا تھا، وہ خوابوں کا تھا، وہ ایک گھر کے چراغ کا تھا۔ تیز رفتار ٹرالر نے میاں بیوی سمیت تین موٹر سائیکل سواروں کو کچل ڈالا، اور ستم بالائے ستم یہ کہ قاتل ڈرائیور انہیں سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ شاید اگر وہ رک جاتا، شاید اگر انسانیت کی کوئی رمق باقی ہوتی، تو بروقت طبی امداد سے ان میں سے کسی ایک کی سانس بچ سکتی تھی۔یہ میاں بیوی کوئی بڑے لوگ نہیں تھے، کرائے کے گھر میں رہنے والے، محنت مزدوری کر کے اپنے پانچ معصوم بچوں کا پیٹ پالنے والے۔ وہ بچے جو اس وقت دروازے پر نظریں جمائے بیٹھے ہوں گے کہ ماں آئے گی، چولہا جلے گا، باپ آئے گا تو کھلونے نہیں سہی، دو لفظ پیار کے ہی لے آئے گا۔ مگر آج ان بچوں کے حصے میں نہ ماں آئی، نہ باپ، صرف ایک اندھیری خبر آئی — ‘‘حادثہ ہو گیا ہے’’۔
یہ قتل تین افراد کا نہیں، آٹھ زندگیاں برباد ہونے کا مقدمہ ہے۔ پانچ بچے جو آج یتیم ہو گئے، جن کی گود اجڑ گئی، جن کے سروں سے سایہ چھن گیا۔ ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟ کیا انہوں نے تیز رفتاری کا حکم دیا تھا؟ کیا انہوں نے ٹرالر کے بریک فیل کیے تھے؟ نہیں، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس معاشرے میں پیدا ہوئے جہاں سڑک پر انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔
روز یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ڈرائیور بھاگ جاتا ہے، زخمی سڑک پر دم توڑ دیتے ہیں، لاشیں اٹھا لی جاتی ہیں، کچھ دن شور مچتا ہے، پھر ضمانت ہو جاتی ہے، فائل بند ہو جاتی ہے، اور وہی ڈرائیور دوبارہ اسٹیئرنگ سنبھال کر کسی اور گھر کو اجاڑنے نکل پڑتا ہے۔ کیا اس کے بھی بچے نہیں ہوتے؟ یا شاید اس کے سینے میں دل ہی نہیں ہوتا؟
ہم نے قانون کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ قاتل گاڑی سمیت فرار ہو جاتا ہے اور مقتول کی اولاد انصاف سمیت یتیم ہو جاتی ہے۔ نہ ٹرالر کی رفتار پر قابو، نہ ڈرائیور کی تربیت، نہ سخت سزا، نہ فوری طبی امداد کا نظام۔ صرف لاشیں، صرف بیانات، اور صرف خاموشی۔
یہ حادثہ نہیں، یہ قتل ہے۔ اور یہ قتل صرف ایک ٹرالر نے نہیں کیا، یہ قتل ہماری لاپرواہی، ہماری خاموشی، اور ہمارے کمزور انصاف نے کیا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ان پانچ بچوں کے آنسو نہ دیکھے، اگر آج بھی ہم نے قاتل کو مثال نہ بنایا، تو کل کسی اور دروازے پر بھی بچے اسی طرح انتظار کر رہے ہوں گے — اور ماں باپ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
اب سوال یہ نہیں کہ ٹرالر کس کا تھا، سوال یہ ہے کہ اگلا نمبر کس کا ہے