لاہور:
شاہی قلعہ لاہور کی موتی مسجد مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک نادر شاہکار ہے، جو اپنے خوبصورت ڈیزائن اور تاریخی اہمیت کے علاوہ، پراسرار کہانیوں کے باعث بھی مشہور ہے۔ مقامی عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ یہاں نیک جنات کا بسیرا ہے، جو مسجد کی حفاظت کرتے ہیں اور عبادت گزاروں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاتے۔
جنات کی موجودگی کے دعوے
موتی مسجد میں جنات کے پہرہ دینے کی کہانیاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے چلی آ رہی ہیں۔ فوٹوگرافر محمد یاسین، جو شاہی قلعہ میں 27 برس سے کام کر رہے ہیں، نے بتایا کہ مسجد میں جنات کی موجودگی کا اعتقاد اس وقت سے ہے جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ایک گورنر یا اس کے عملے نے مسجد کی بے حرمتی کی تھی۔ یاسین نے کہا کہ رمضان کے دوران مسجد میں نمازیوں کا ہجوم ہوتا ہے، لیکن سلام پھیرتے ہی مسجد میں چند لوگ ہی نظر آتے ہیں، جس سے ان کے مطابق جنات کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔
زائرین کی دعائیں
موتی مسجد میں آ کر لوگ اپنی حاجات پوری ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ فرزانہ احمد، جو لاہور کی رہائشی ہیں، نے اپنی پوتی کے ساتھ مسجد میں نفل پڑھ کر دعا کی کہ ان کی پوتی کو اچھا رشتہ ملے اور وہ تعلیم میں کامیاب ہو۔ ان کا ایمان ہے کہ نیک جنات کے وسیلے سے ان کی دعائیں قبول ہوں گی۔
تاریخی پس منظر
موتی مسجد کی بنیاد 1599ء میں مغل بادشاہ اکبر کے دور میں رکھی گئی، اور اس کی مزید تعمیر بادشاہ جہانگیر کے دور میں ہوئی۔ بعد ازاں، شاہجہان نے اس مسجد کو سفید سنگ مرمر سے آراستہ کیا، جس کے باعث اسے "موتی مسجد" کا نام دیا گیا۔ مغلیہ دور کے بعد سکھوں کے قبضے میں آنے کے بعد، مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مسجد کو توشہ خانہ کے طور پر استعمال کیا، جہاں قیمتی جواہرات اور خزانے رکھے گئے۔
بحالی کا عمل
حال ہی میں، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے موتی مسجد کی بحالی کا کام مکمل کیا ہے، جس دوران مسجد کی دیواروں سے وہ تحریریں مٹائی گئیں جو زائرین نے اپنی حاجات اور محبتوں کے قصے لکھ کر چھوڑی تھیں۔ یہ مسجد مغلیہ دور کے فنِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے اور اپنی منفرد تعمیرات کی وجہ سے دنیا کے تاریخی ورثے میں شامل ہے۔
روحانی ماحول اور عوامی اپیل
موتی مسجد میں باجماعت نماز نہیں ہوتی، مگر یہاں فردی طور پر نفل ادا کیے جاتے ہیں، اور رمضان یا دیگر مقدس مواقع پر زائرین کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہاں کا پراسرار سکون اور روحانی ماحول زائرین کی دعاؤں کو مزید اثر انگیز بنا دیتا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تاریخی اور مذہبی مقام کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
موتی مسجد: تاریخی، مذہبی، اور پراسرار ورثہ
موتی مسجد لاہور نہ صرف ایک روحانی مرکز ہے بلکہ یہ لاہور کے شاندار ماضی کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔ یہ 400 سال پرانی مسجد نہ صرف لاہور بلکہ دنیا کے تاریخی ورثے میں اہم مقام رکھتی ہے، اور ہمیشہ زائرین اور تاریخ کے شائقین کے لیے ایک کشش کا باعث بنی رہے گی۔