سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ریاست میں پارلیمان ہے،آڈیٹرہیں،وزارتیں ہیں،کمیٹیاں ہیں،عدالتیں ہیں،ریگولیٹری ادارے ہیں اورانتظامی ڈھانچے موجودہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاان سب کی اجتماعی قوت عام آدمی کویہ اعتمادفراہم کرتی ہے کہ قومی مالی فیصلے مسلسل نگرانی میں ہیں؟احتساب صرف اس وقت نہیں ہوناچاہیے جب اسکینڈل بن جائے۔اصل احتساب وہ ہے جو نقصان ہونے سے پہلے سوال کرے۔یہ سوال کہ کون ذمہ دار ہے؟ضروری ہے،مگراس سے پہلے سوال ہوناچاہیے:اگرایک نظام ہردس برس بعدوہی غلطی نئے نام سے دہراتاہے تومسئلہ افرادسے بڑاہوجاتاہے۔پھراصلاح صرف یہ ہونے کیسے دیا گیا؟چہرے بدلنے سے نہیں،فیصلہ سازی کے نظام بدلنے سے آتی ہے۔قوم کوایسے اداروں کی ضرورت ہے جوحکومت کے ساتھ کھڑے نہ ہوں بلکہ ریاست اورعوام کے مفادکے ساتھ کھڑے ہوں۔
دراصل غریب عوام کاچھٹاسوال نہایت دلخراش ہے۔کبھی یوں محسوس ہوتاہے جیسے قوم اپنے حکمرانوں کوبھی کیپیسٹی چارجزادا کررہی ہو۔وہ کام کریں یانہ کریں،عوام کوٹیکس، سرکاری اخراجات،بیرونی دوروں،مراعات اوروفودکے مصارف برداشت کرناہی ہیں۔یہ تشبیہ محض طنز نہیں؛ایک سنگین سیاسی سوال ہے۔حکمران ریاست کے ملازم ہیں یاریاست ان کی کفالت کاادارہ؟اقتدارخدمت کانام ہے یاسہولت کا؟اگروزیراورحاکم عوامی عہدے پرہیں توان کے ہرسرکاری خرچ کااخلاقی جوازہوناچاہیے۔بیرونی دورہ اگرسرمایہ کاری لاتاہے،سفارتی بحران حل کرتاہے،تجارت بڑھاتاہے یاملکی مفادکی واضح تکمیل کرتاہے توقوم اس کاخرچ قبول کرسکتی ہے لیکن اگرعوام کونتیجہ دکھائی نہ دے اورصرف وفود،پروٹوکول اوراخراجات دکھائی دیں توسوال اٹھناناگزیر ہے۔یہاں ایک اصول یادرکھناچاہیے:سادگی کی سب سے خوبصورت تقریرخودسادگی ہے۔حکمران لاکھ کہے کہ خزانہ خالی ہے،مگراگر
اس کے اپنے دروازے پراسراف کے چراغ روشن ہوں توتقریراپنااثرکھودیتی ہے۔
قوم سے کفایت شعاری کامطالبہ کرنے والوں کی میزپرکفایت شعاری نظرآنی چاہیے۔عوام سے قربانی مانگنے والوں کی زندگی میں قربانی کاکوئی نشان ہوناچاہیے۔حکمرانی محض حکم دینے کامنصب نہیں،مثال قائم کرنے کاامتحان بھی ہے۔اگرغریب ماں اپنے بچے کے دودھ میں کمی کرے،مزدورپیدل سفرکرے،متوسط طبقہ علاج مخرکرے اورنوجوان گھرکے خرچ کیلئے دودوملازمتیں کرے،تو حاکم کیلئے شاہانہ نمودصرف مالی سوال نہیں رہتی؛اخلاقی بے حسی کی علامت بن جاتی ہے۔
عوامی فریاد کاساتواں نکتہ سب سے زیادہ علامتی ہے۔اس میں باربارہونے والے کفایت شعاری کے اعلانات،بعض وزراکی بلا معاوضہ خدمت کے دعوؤں،وزیراعظم ہاؤس اور ایوانِ صدرکے اخراجات،بیرونی ومذہبی سفراورعوامی تاثرکے درمیان تضاد پرسوال اٹھایاگیا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگرحکمران اپنی تنخواہوں کی قربانی کاذکرکرتے ہیں توپھربڑے سرکاری اخراجات کہاں صرف ہوتے ہیں؟
مالی سال202627کیلئے وزیراعظم آفس اورایوانِ صدرپرمجموعی طورپرتقریبا4 ارب61کروڑروپے مختص کیے گئے ہیںیعنی اوسطاروزانہ ایک کروڑ26لاکھ روپے سے زائد ۔سوال محض یہ نہیں کہ یہ رقم کتنی ہے؛اصل سوال یہ ہے کہ مہنگائی،قرض اورمالی تنگ دستی کے اس عہدمیں قومی خزانے سے خرچ ہونے والی ہرپائی کے بدلے قوم کوکس درجے کی حکمرانی،کفایت شعاری اور جواب دہی میسرآرہی ہے؟بلکتی ،سسکتی عوام ان کے بارے میں شفاف معلومات کامطالبہ کرتی ہے کہ بتائے گئے اخراجات کوکم دکھایاجارہاہے۔ اعداد سامنے لائیے۔کتناخرچ ہوا؟کس مدمیں ہوا؟گزشتہ برس کے مقابلے میں کتنا کم یازیادہ ہوا؟کیااخراجات کی آزادانہ جانچ ہوئی؟اورکفایت شعاری کے اعلان کے بعدحقیقی بچت کتنی ہوئی؟اعداد سامنے ہوں گے توالزام کی جگہ دلیل لے گی۔شفافیت ہوگی توحکومت اپنے آپ کوبھی غیرضروری بدگمانی سے بچاسکے گی۔
کیا مذہبی زیارات اورحکمرانوں کی دعاؤں کی تشہیرپرقومی خزانے سے اخراجات جائزہیں؟عبادت یقیناانسان اوراس کے رب کاپاکیزہ معاملہ ہے؛مگرسیاست جب عبادت کواپنی تشہیرکازیوربنالے توسوال پیداہوتاہے کہ دین کااصل تقاضاکیاہے؟اسلامی تہذیب نے ہمیں بتایا کہ عبادت صرف جبین کے جھکنے کانام نہیں،حقوق العبادکے سامنے ضمیرکے جھکنے کانام بھی ہے۔حرم میں اٹھے ہوئے ہاتھ مقدس ہیں؛مگررعایا کے حق پراٹھاہواہاتھ روکنابھی عین عبادت ہے۔تسبیح خوبصورت ہے؛مگرخزانے کی امانت داری اس سے کم خوبصورت نہیں۔دعاعظیم ہے؛مگرمظلوم کی دادرسی دعاکی عملی تفسیر ہے۔حکمران اگربیت اللہ کے سامنے گریہ کرے اوراس کے اپنے شہرمیں کسی باپ کے بچے بھوک سے روئیں،تو تاریخ اس کے آنسوؤں سے پہلے اس کی حکمرانی کاحساب لکھتی ہے۔
اے صاحبانِ اقتدار!قومیں ہمیشہ شورسے بغاوت نہیں کرتیں۔بعض اوقات ان کاسب سے خوفناک احتجاج خاموشی ہوتی ہے۔وہ خاموشی جوبل ہاتھ میں پکڑے باپ کے چہرے پراترتی ہے۔وہ خاموشی جوبازارمیں قیمت پوچھ کرخالی ہاتھ واپس آتی عورت کی آنکھوں میں ٹھہرجاتی ہے۔وہ خاموشی جوتعلیم یافتہ نوجوان کے کمرے میں رات گئے اس وقت پھیلتی ہے جب وہ سوویں درخواست کے بعدبھی روزگارکاجواب نہیں پاتا۔اوروہ خاموشی جوبوڑھے پنشنرکی انگلیوں میں کانپتی ہے جب وہ دوااورراشن میں سے ایک کاانتخاب کرتا ہے۔یہ خاموشیاں تاریخ کے کاتب سے چھپی نہیں رہتیں۔مظلوم کی آہ کومعمولی نہ سمجھو۔
حکومتیں سمجھتی ہیں کہ اعدادسنبھل گئے توملک سنبھل گیا؛مگرملک صرف اعدادسے نہیں چلتے۔ملک اعتماد،عدل،احساس اوراخلاقی ساکھ سے بھی چلتے ہیں۔اگرخزانہ خالی ہے توقوم حقیقت سننے کوتیارہوسکتی ہے؛لیکن اگرقوم سے کہاجائے کہ گھرکاچراغ بجھادو اورخود ایوانوں میں فانوس روشن رہیں،تومسئلہ غربت نہیں رہتا۔مسئلہ انصاف بن جاتاہے۔اگرقوم سے کہاجائے کہ قربانی دواور اقتدار خودقربانی سے مستثنی رہے،تومسئلہ معیشت نہیں رہتامسئلہ اخلاق بن جاتاہے۔اگرقوم سے کہا جائے کہ سوال مت کرو، معاہدوں کو نہ دیکھو، اخراجات کاحساب نہ مانگواورصرف صبرکرو،تومسئلہ انتظام نہیں رہتامسئلہ حکمرانی کے جوازتک جاپہنچتاہے۔
تاریخ کے بازارمیں تخت بہت بکے ہیں اورتاج بہت بدلے ہیں؛مگررعایاکی آہ کاحساب کبھی مکمل طورپرمٹانہیں۔مظلوم کی دعااور بددعاکوسیاسی نعروں کے ترازومیں نہیں تولاجا سکتا۔اسلامی روایت کااخلاقی سبق یہی ہے کہ کمزورکی فریادکومعمولی نہ سمجھا جائے۔جب ایک قوم مہنگائی کے انگاروں پرچل رہی ہو،جب اس کی آمدن سکڑرہی ہو،جب بجلی، گیس،خوراک،علاج اورتعلیم اس کیلئے ہرروززیادہ دشوارہوتے جائیں،توحکمرانوں کیلئے سب سے خطرناک رویہ یہ ہے کہ وہ رعایاکے دکھ کومحض اعدادکااتارچڑھا ؤسمجھیں۔یہ آہیں محلات کے دبیزپردوں سے ٹکراکر واپس نہیں لوٹتیں،یہ وقت کے حافظے میں محفوظ ہوجاتی ہیں۔اوروقت بادشاہوں کاسب سے بے رحم مؤرخ ہے۔لہذا آج ضرورت انتقام کی نہیں،احتساب کی ہے؛شورکی نہیں،شفافیت کی ہے؛جذباتی اعلانات کی نہیں،اعدادو شواہدکی ہے؛نمائشی کفایت شعاری کی نہیں،حقیقی اصلاحات کی ہے۔قوم کوبتایاجائے کہ توانائی کے معاہدوں کی شرائط کیاہیں۔قوم کوبتایاجائے کہ کیپیسٹی چارجزکس اصول کے تحت اداہوتے ہیں۔قوم کے سامنے بتایاجائے کہ کس حکومت،کس کمیٹی اورکس ادارے نے کس مرحلے پرکیامنظوری دی۔قوم کوسال بہ سال بتایاجائے کہ ایوانِ اقتدارپرکتناخرچ ہوتاہے۔بیرونی دوروں کے اخراجات اورنتائج شائع کیے جائیں۔توانائی کے ایسے معاہدوں کاآزادانہ آڈٹ ہوجوقومی خزانے پرطویل المدت بوجھ ڈالتے ہیں۔اورسب سے بڑھ کریہ اصول قائم کیاجائے کہ اختیارجہاں ہوگا،جوابدہی بھی وہیں ہوگی۔تب شاید
اس ملک کی سیاست الزام سے ادارے کی طرف،شخصیت سے اصول کی طرف اورنعرے سے نظام کی طرف سفرشروع کرے۔ورنہ وہ دن بعیدنہیں جب مورخ ہماری نسل کے بارے میں لکھے گا،ان کے پاس وسائل بھی تھے،ادارے بھی؛ذہین لوگ بھی تھے،محنتی عوام بھی ؛زمین زرخیز تھی،قوم جفاکش تھی؛مگرامانت اورجوابدہی کے درمیان کہیں ایساشگاف پڑاکہ خزانے بھرنے سے پہلے دل خالی ہونے لگے ۔
حکمرانوں کیلئے اب بھی وقت ہے۔قوم کے زخم کوتقریرنہ سمجھیں۔اس کی غربت کوشماریات کاخانہ نہ سمجھیں۔اس کے ٹیکس کوبے حساب خزانہ نہ سمجھیں۔اوراس کے صبرکوبے انتہانہ سمجھیں۔کیونکہ رعایاجب اپنے حاکم کیلئے دعاچھوڑکرفریادکرنے لگے توتخت کے ستون بظاہرقائم رہتے ہیں،مگران کی بنیادوں میں تاریخ کی نمی اترناشروع ہوجاتی ہے۔عدل کی طرف لوٹیے۔امانت کی طرف لوٹیے۔شفافیت کی طرف لوٹیے۔اس سے پہلے کہ مہنگائی کے انگاروں پردن رات چلنے والی قوم کی سسکیاں اتنی بلندہوجائیں کہ ایوانِ اقتدارکی دیواریں توقائم رہیں،مگران دیواروں کے اندربیٹھے لوگوں کااخلاقی جوازباقی نہ رہے۔
قوم رعیت نہیں کہ صرف فرمان سنے۔قوم ہی ریاست کی اصل مالک ہے۔اورقومی خزانہ حکمرانوں کی ملکیت نہیں،آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔