قومی خزانے کی خاموش نیلامی

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
قوموں کی تاریخ صرف فتوحات کے کتبوں،تاج محلوں،ایوانوں اورفرمانرواں کے تذکروں سے نہیں لکھی جاتی؛اس کے بعض ابواب فاقہ زدہ گھروں کے بجھے ہوئے چولہوں،محنت کش کے پسینے،بیوہ کی خاموش آہ،مزدورکی اجرت،مقروض باپ کی جھکی ہوئی پیشانی اوراس نوجوان کی بے یقینی سے بھی رقم ہوتے ہیں جس کے ہاتھ میں ڈگری توہوتی ہے مگر مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں۔ریاست اگرایک شجرِسایہ دارہے تو قومی خزانہ اس کی جڑوں میں بہنے والاوہ پانی ہے جورعایاکے خونِ جگرسے کشیدہوتاہے۔ٹیکس کی ہررقم محض ایک عدد نہیں؛کسی دکاندارکی کمائی کاحصہ،کسی ملازم کی تنخواہ کاٹکڑا،کسی مزدورکے بچوں کی روٹی اورکسی غریب عورت کی دواکی قیمت ہے۔اسی لیے اہلِ اقتدارکاپہلا اخلاقی فرض یہ نہیں کہ وہ قوم پراحسان جتائیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم کی ایک ایک پائی کوامانت سمجھیں۔
آج صاحبانِ اقتداراوراشرافیہ کوآگ کے انگاروں پرلوٹتی ہوئی ہوئی بلبلاتی قوم ایک ایساسوال نامہ پیش کررہی ہے جس کے حاشیوں پر بجلی،گیس،قرض،ٹیکس،شاہانہ اخراجات، توانائی کے معاہدے اورحکومتی جواب دہی کے سوال رقم ہیں۔اصل دستاویزمیں بعض اعداد اورسیاسی ذمہ داریوں کے متعلق سخت دعوے کیے گئے ہیں۔ان دعوؤں کی آزادانہ دستاویزی تصدیق اس تحریرکاموضوع نہیں؛البتہ ان کے بطن سے پیداہونے والے سیاسی،اخلاقی اورقومی احتساب کے سوالات ایسے ہیں جن سے منہ موڑناکسی بھی زندہ معاشرے کیلئے آسان نہیں۔
کچھ عرصے سے پاکستان کی عوامی گفتگومیں بجلی پیداکرنے والے نجی اداروں،یعنی آئی پی پیز،اور ان سے منسلک  ڈالرزمیں ادائیگی کاچرچارہاہے۔ قوم پہلے ہی اس سوال سے دوچار تھی کہ اگربجلی استعمال نہ بھی ہوتوادائیگی کیوں؟اسی تناظر میں فراہم کردہ دستاویزایک دوسرادروازہ کھولتی ہے اورایل این جی کے انتظامات کے بارے میں بھی اسی نوعیت کے اخراجات کادعویٰ سامنے آیا ہے۔یہ مؤقف ایک حکومتی وزیرکی طرف منسوب کیاگیاہے کہ ایل این جی آئے یانہ آئے،بعض ادائیگیاں بہرحال واجب ہوتی رہتی ہیں؛ مجوزہ وزیر کے بیان کے مطابق ماہانہ15ملین ڈالراوراب تک تین ارب ڈالرکی ادائیگی کادعویٰ بھی کیاجارہاہے۔اگراس نوعیت کی شرائط واقعی ریاستی معاہدوں میں موجودہیں توسوال محض اتنانہیں رہتاکہ رقم کتنی اداہوئی۔اصل سوال یہ ہے کہ معاہدہ کس ضرورت کے تحت کیاگیا؟اس کے خطرات کاتخمینہ کس نے لگایا؟ریاست نے اپنی ضرورت اورادائیگی کی صلاحیت کا حساب کس بنیادپرکیا؟اورسب سے بڑھ کر،معاہدے کی ناکامی یاغیرمؤثرہونے کی صورت میں ذمہ داری کس پرعائدہوگی؟
حکومت اگربازارسے ایک معمولی چیزبھی خریدے توخزانے کے محافظوں کوقیمت،معیاراورضرورت دیکھنی چاہیے؛پھر اربوں ڈالر کے قومی معاہدے کسی ایسے کاغذکی مانندکیسے سمجھے جائیں جس پرچنددستخط ہوجائیں اورنسلوں کے کندھوں پرقرض کاایک نیا پتھررکھ دیا جائے؟یہاں المیہ صرف روپیہ نہیں؛ریاستی فیصلہ سازی کی ثقافت ہے۔ایک ایساملک جہاں لاکھوں گھرانے بجلی کابل آنے پرمہینے کابجٹ بدل دیتے ہوں،وہاں ایسے معاہدوں کی ہرشق عبادت گاہ کی محراب پرلکھی امانت کی طرح صاف ہونی چاہیے کیونکہ خزانہ حکومت کانہیں،قوم کاہوتاہے؛حکومت توصرف اس کی عارضی امین ہوتی ہے۔
دوسرانکتہ اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال اٹھاتاہے۔جن ادوارمیں متعلقہ توانائی معاہدے ہوئے،اس وقت بھی مسلم لیگ(ن)برسرِاقتدار تھی،اوراس وقت کے وزیرِپٹرولیم شاہد خاقان عباسی،اسحاق ڈاراوراقتصادی فیصلہ سازی کے دیگرذمہ دارمناصب کاحوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھتاہے کہ ان فیصلوں کی اجتماعی ذمہ داری کہاں متعین ہوگی؟یہ سوال کسی ایک جماعت،ایک شخص یاایک دورتک محدود نہیں ہوناچاہیے۔
جمہوری حکومت میں کابینہ محض تصویری اجتماع نہیں ہوتی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی محض فائلوں پرمہر ثبت کرنے کادفترنہیں ہوتی۔ وزارتِ خزانہ محض اعدادکادارالترجمہ نہیں ہوتی۔یہ سب قومی فیصلے کے وہ ستون ہیں جن پرریاستی ذمہ داری کی عمارت قائم ہوتی ہے۔اگرکسی معاہدے سے ملک کوفائدہ پہنچے توحکمران اس کاسہرااپنے سرباندھنے میں دیرنہیں لگاتے۔ اخبارات کے اشتہارات چھپتے ہیں،تقاریرمیں کامیابی کے چراغ روشن ہوتے ہیں،فیتے کاٹے جاتے ہیں اورمنصوبوں کوسیاسی بصیرت کے تاج پہنائے جاتے ہیں۔پھرجب وہی فیصلہ قومی خزانے کیلئے بوجھ بن جائے توذمہ داری یتیم کیوں ہوجاتی ہے؟یہ ہماری سیاسی تاریخ کاایک تکلیف دہ مسئلہ ہے کہ کامیابی کے سووارث نکل آتے ہیں،ناکامی کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔
ریاستیں اس طرزِحکمرانی سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ریاستیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب فیصلہ کرنے والاجانتاہوکہ دس سال بعدبھی اس سے پوچھاجاسکتاہے:تم نے دستخط کیوں کیے تھے؟قوم کوکیافائدہ بتایاتھا؟خطرے کیاتھے؟متبادل کیاتھے؟اوراگراندازہ غلط ثابت ہواتو سبق کیاسیکھاگیا؟جونظام سوال کوجرم بنادے،وہ غلطی کوروایت بنادیتاہے۔
تیسرانکتہ اس وقت کے وزیرِاعظم میاں نوازشریف اوران کی کابینہ کاحوالہ دیتے ہوئے یہ استدلال پیش کرتاہے کہ بڑے قومی معاہدوں کوصرف کسی ایک وزیریاافسرکے سرڈال کر پورے سیاسی نظام کوبری الذمہ قراردیناکافی نہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ کیاکوئی ایسااہم معاہدہ وزیرِاعظم اورکابینہ کی منظوری کے بغیرپایہ تکمیل تک پہنچ سکتاتھا؟یہ سوال سیاسیات کی ایک بنیادی حقیقت کوچھوتاہے:اختیاراورجوابدہی کوایک دوسرے سے جدانہیں کیاجاسکتا۔اختیاراگرتخت ہے توجوابدہی اس کاسایہ ہے۔جوشخص اختیارکاسورج چاہتاہے اسے احتساب کاسایہ بھی قبول کرناہوگا۔
جمہوریت بادشاہت کی تبدیل شدہ صورت نہیں کہ فرمان جاری ہوااورسوال ختم۔ جمہوریت میں اجتماعی کابینہ اس لیے ہوتی ہے کہ بڑے فیصلے شخصی خواہش نہیں بلکہ ادارہ جاتی ذمہ داری بنیں۔وزیر،مشیر،سیکریٹری،کمیٹیاں اورکابینہ اسی لیے وجودرکھتے ہیں کہ فیصلے کوکئی آنکھیں دیکھیں،کئی ذہن پرکھیں اورکئی ہاتھ اس کی ذمہ داری قبول کریں۔لیکن اگرنظام میں ہرشخص صرف اختیارکا حصہ لے اورذمہ داری آنے پردوسرے کی طرف انگلی اٹھادے توریاستی نظام کشتی کے ایسے عملے میں تبدیل ہوجاتاہے جہاں بادبان سب کھینچتے ہیں،مگرجہاز چٹان سے ٹکرائے توہرملاح کہتاہے: پتوارمیرے ہاتھ میں نہ تھا۔ملکوں کانظم ایسے نہیں چلتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے اقتصادی معاہدوں کیلئے ادارہ جاتی یادداشت قائم ہو؛کس کابینہ نے کیافیصلہ کیا،کس کمیٹی نے کیا سفارش دی،مالی خطرات کیابتائے گئے،اختلافی نوٹس کیاتھے،اوربعد کیبرسوں میں نتائج کیانکلے۔قوم کومحض یہ نہ بتایاجائے کہ معاہدہ ہوا؛ قوم کویہ بھی معلوم ہوناچاہیے کہ معاہدہ کیوں ہوااورکس نے اس کی ذمہ داری لی۔
چوتھے نکتے میں ایک مختصرمگرنہایت تلخ جملہ سامنے آتاہے:ادائیگیاں بھی عوام کے نصیب میں،لوڈشیڈنگ بھی؛گیس نہ ہوتب بھی رقم جاتی رہے۔یہ جملہ دراصل ہمارے معاشی المیے کی ایک پوری تصویرہے۔عام آدمی ریاست سے پیچیدہ اقتصادی فلسفہ نہیں مانگتا۔وہ صرف اتناجانناچاہتاہے کہ اگراس نے بل دیاتوبجلی کیوں نہیں؟اگرٹیکس دیاتوسہولت کہاں ہے؟اگرگیس کی قیمت بڑھی توگیس چولہے تک کیوں نہ پہنچی؟اگرقرض لیاگیاتواسپتال،اسکول،پانی،روزگاراوربنیادی ڈھانچے میں اس کاعکس کیوں نظرنہیں آتا؟ریاستی معیشت کاسب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتاہے جب قیمت اورخدمت کارشتہ ٹوٹ جائے۔جب شہری کومسلسل یہ احساس ہونے لگے کہ وہ ادائیگی کررہاہے مگربدلے میں سہولت نہیں؛وہ ٹیکس دے رہاہے مگرتحفظ نہیں؛وہ مہنگائی برداشت کررہاہے مگراقتصادی استحکام نہیں؛وہ قربانی دے رہاہے مگرایوانوں کی روش نہیں بدل رہی تومسئلہ صرف معیشت کانہیں رہتا؛ریاست اورشہری کے درمیان اعتمادکارشتہ کمزورہونے لگتاہے۔اعتمادوہ آئینہ ہے جوایک مرتبہ چٹخ جائے توجوڑنے کے بعدبھی دراڑیں دکھائی دیتی ہیں۔
حکمرانوں کوسمجھناہوگاکہ بجلی اورگیس محض معمولی اشیانہیں؛جدیدزندگی کی رگوں میں دوڑتاہواخون ہیں۔فیکٹری کاپہیہ،طالب علم کاچراغ،مریض کاآکسیجن نظام،چھوٹے تاجرکا کاروبار،گھرکاچولہاسب ان سے بندھے ہوئے ہیں۔اس لیے توانائی کی پالیسی میں غلط حساب کتاب ایک دفترکی غلطی نہیں؛وہ کروڑوں زندگیوں کے وقت،پیسے اورامیدپر اثر اندازہوتاہے۔
پانچواں نکتہ ملک پربڑھتے ہوئے قرضوں کو زیرِ بحث لاتا ہے اورا نتہائی دردمندی سے یہ سوال اٹھاتا ے کہ کیا کوئی ایسا دارہ نہیں جو ان مالی فیصلوں پرنگاہ رکھے؟ غریب عوام سسکیاں لیتی ہوئی ندگی گزار ہی ہے۔قرض بذاتِ خود ہمیشہ برائی نہیں ہوتا۔ قوام ترقیاتی منصوبوں، نعت، نفراسٹرکچر ور ستقبل کی پیداواری صلاحیت کیلئے قرض لیتی ہیں۔مگرقرض اس وقت زنجیربن جاتاہے جب وہ پیداوار کی بجائے ماضی کی غلطیوں کی قیمت اداکرنے میں صرف ہونے لگے۔ایک قرض دوسرے قرض کاکفن بنے،پھر تیسراقرض پہلے دو قرضوں کاسود اداکرے،توخزانہ آہستہ آہستہ ایسے کنویں میں اترتاجاتاہے جس میں روشنی اوپررہ جاتی ہے اورقوم نیچے۔(جاری ہے)