پنجاب میں18سال سے کم عمر کی شادی پرپابندی‘اسمبلی نے منظوری دیدی

شادی کیلئے عمر18سال ہوناضروری‘ کم عمری کی شادی زیادتی شمار ہوگی،جبری شادی کی صورت میں متاثرہ بچے یا بچی کی حفاظت عدالت کرے گی
بل کے تحت  کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3سال قید اور  5 لاکھ روپے  جرمانہ ‘ نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
لاہور(آئی این پی )   پنجاب اسمبلی نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کابل منظور کرتے ہوئے 18 سال سے کم عمر میں شادی پر پابندی عائد کردی۔بل کے متن کے مطابق پنجاب میں18سال سے کم عمربچوں کی شادی پرپابندی عائدہوگی، نکاح کے وقت دلہا اور دلہن کی عمر18سال ہونا لازمی قراردیا گیا ہے۔بل میں کہا گیا ہے  جبری شادی کی صورت میں متاثرہ بچے یا بچی کی حفاظت عدالت کریگی جب کہ کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم،کرمنل ایکٹ کیتحت کارروائی ہوگی اور 18سال سے کم عمر کی شادی کو زیادتی کے زمرے میں شمار کیا جائیگا۔بل کے مطابق کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3سال قید اور  5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، اسی طرح پنجاب سے تعلق رکھنے والے کم عمرکو دوسرے صوبے میں لے جاکرشادی کرنے پر7سال قید اور 10لاکھ جرمانہ ہوگا۔بل کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ  نکاح رجسٹرار اور والدین بھی قانون کی زد میں آئیں گے، ایسے بچوں  کے سرپرست کو 2 سال قید اور 5 لاکھ روپیجرمانہ ہوگا جب کہ کم عمری کا نکاح رجسٹر کرانے والے اور نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا