بھارت میں مودی حکومت کے دور میں کسانوں پر ظلم و تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع گنیش پورہ کا ہے، جہاں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے ایک رہنما مہندرا نگر نے زمین بیچنے سے انکار کرنے والے کسان رام سواروپ کو اپنی زمین کے تنازعے میں جیپ سے کچل کر ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ، اس رہنما اور اس کے ساتھیوں نے کسان پر ڈنڈوں سے حملہ کیا، خواتین پر تشدد کیا، اور پھر گولیاں بھی چلائیں۔ مسلح افراد نے زخمی کسان کو ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی رہنما کسانوں کو خوفزدہ کر کے زبردستی زمین سستے داموں بیچنے اور گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اب تک تقریباً 25 کسانوں کو زبردستی زمین فروخت کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔
ادھر، کانگریس کے ایم ایل اے رشی اگروال نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تشدد، لوٹ مار اور عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ سب بی جے پی انتظامیہ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی ناکام زرعی پالیسیوں کے باعث بھارتی کسان قرض، بھوک اور خودکشی جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔