اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کے خاتمے کے خلاف درخواست پر سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی جانب سے فریم ورک رپورٹ جمع کروانے پر درخواست گزار کے وکیل سے تحریری تجاویز طلب کر لیں،جسٹس خادم سومرو نے ریمارکس دیئے کہ جب ہر کتے پر انیس ہزار روپے خرچ کئے جا رہے ہیں تو پھر مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ پاکستان پینل کوڈ کے تحت کتوں کو مارنا جرم ہے ، ہم اس معاملے کو تفصیلی طور پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں،اسلام آباد جیسے دارالحکومت میں کتوں کے حقوق کیلئے پٹیشن آنا حیران کن ہے، 9 اکتوبر کو مردہ کتوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے پر جسٹس خادم سومرو نے سرکاری وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ڈرائیور پر تو ایف آئی آر ہو گی اور جب مقدمہ ہو گا تو وہ بتائے گا کہ کس کے کہنے پر یہ سب ہوا۔ سی ڈی اے کی گاڑی میں مردہ کتے پائے گئے، ویڈیو بنی اور ڈرائیور بھاگ گیا، بادی النظر میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنے کتے مرے ہوئے پائے جائیں؟ ،سی ڈی اے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جس گاڑی میں مردہ کتے پائے گئے وہ سینیٹیشن کی گاڑی تھی ، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے تحریری تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔