متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے 2026 کے مالی سال کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ منظور کیا ہے، جس کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔
اس بڑے بجٹ کا مقصد ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنانا، سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔اس ضمن میں، فیڈرل فنانشل سینٹر پروگرام بھی منظور کیا گیا ہے، جس کا مقصد وفاقی اداروں کی مالی پائیداری اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ مالی استحکام برقرار رہے اور معیشت مستحکم رہے۔2024 کے مالی سال میں، بیرونی سرمایہ کاری نے اہم سنگ میل عبور کیا ہے، اور یہ 1.05 کھرب درہم تک پہنچ گئی ہے، جو کہ عرب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سرمایہ کاری میں اضافہ ملک کی معیشتی ترقی اور عالمی مارکیٹ میں اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں، امارات کی برآمدات بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں، اور 2019 کے مقابلے میں یہ دوگنا بڑھ کر 950 ارب درہم تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ ملک کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافے اور اقتصادی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے، اور ظاہر کرتا ہے کہ امارات عالمی سطح پر ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔یہ تمام اقدامات اور ترقیاتی اقدامات امارات کے مستقبل کے اقتصادی عزائم اور عالمی مارکیٹ میں اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور ملک کی معیشت کو مزید ترقی یافتہ اور متنوع بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔