وفاقی کابینہ کی اکثریت نے کے پی میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کر دی، حکومتی ذرائع

وفاقی کابینہ کی اکثریت نے کے پی میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کر دی، حکومتی ذرائع

وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور کیا ہے اور اس کی اکثریت نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

 ذرائع کے مطابق، گورنر راج کے نفاذ سے قبل پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، اور قومی وطن پارٹی سمیت سیاسی اتحادیوں سے مشاورت کی جائے گی۔ کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر حتمی اعلان کیا جائے گا۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی صوبے میں بدامنی، کرپشن، اور حکومتی ناکامیوں پر سخت تنقید کی ہے، جس کے باعث گورنر راج کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے کئی علاقے نوگو ایریاز بن چکے ہیں، اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال وفاقی حکومت کی مداخلت کی متقاضی ہے

آئینی طور پر، گورنر راج آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت لگایا جا سکتا ہے، جس کے لیے صدر مملکت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری درکار ہوگی۔ اس اقدام سے صوبائی حکومت کے اختیارات وفاق کو منتقل ہو جائیں گے، لیکن یہ انتظامی اقدام صرف 2 ماہ کے لیے قابلِ عمل ہوگا، جس میں پارلیمنٹ کے ذریعے مزید توسیع ممکن ہے​