لبنان میں جنگ بندی کے بعد حزب اللہ نے اپنے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے جسد خاکی کو دوبارہ تدفین کے لیے عارضی قبر سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق ان کی شہادت کے بعد ان کا جسد خاکی امانتاً دفن کیا گیا تھا۔ اب انہیں شایان شان انداز میں دوبارہ دفن کیا جائے گا، جس میں غیر ملکی شخصیات اور عوام کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم، تنظیم نے تدفین کی تاریخ کا اعلان ابھی تک نہیں کیا۔
حسن نصراللہ کی شہادت:
حزب اللہ کے طویل عرصے سے سربراہ، حسن نصراللہ، 27 ستمبر کو بیروت کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ بمباری سے تنظیم کا زیر زمین ہیڈکوارٹر تباہ ہوگیا تھا، جہاں حسن نصراللہ موجود تھے۔ ان کا جسد خاکی حملے کے دو روز بعد ملبے سے نکالا گیا، لیکن تنظیم نے اس وقت ان کی موت کے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ بظاہر ان کی شہادت دھماکے کی شدت اور جھٹکوں کے باعث ہوئی۔
حزب اللہ کی خاموشی:
جنگ کے دوران حزب اللہ عمومی طور پر خاموش رہی اور اپنے سربراہ کی شہادت سمیت کئی بڑے واقعات پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم، جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کا میڈیا ونگ دوبارہ سرگرم نظر آیا اور حسن نصراللہ کی تدفین سے متعلق اعلان کیا۔ حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں شاندار جنازے کے ساتھ دفن کیا جائے گا، جو کہ تنظیم کے لیے ایک اہم موقع ہوگا۔
حسن نصراللہ کا کردار:
حسن نصراللہ 32 سال تک حزب اللہ کے سربراہ رہے۔ ان کی قیادت کے دوران تنظیم نے خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا۔ 1997 میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا، لیکن اس کے باوجود حسن نصراللہ 27 سال تک تنظیم کے سربراہ کے طور پر زندہ رہنے میں کامیاب رہے۔
تدفین کے اثرات:
حسن نصراللہ کی دوبارہ تدفین نہ صرف حزب اللہ کے لیے ایک بڑا داخلی موقع ہوگی بلکہ یہ جنگ بندی کے بعد تنظیم کی ایک نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تنظیم کی یہ سرگرمی لبنان کے سیاسی اور سماجی ماحول پر کیا اثر ڈالتی ہے۔