لبنان میں UNIFIL کا جنگ بندی کا خیرمقدم، نئی حکمت عملی پر عمل شروع

لبنان میں UNIFIL کا جنگ بندی کا خیرمقدم، نئی حکمت عملی پر عمل شروع

لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (UNIFIL) نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن مشن نے اپنی سرگرمیوں کو نئی صورت حال کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔

 UNIFIL کے ترجمان نے کہا کہ تنظیم اپنے بنیادی فرائض انجام دینے کے لیے پرعزم ہے اور لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون کرے گی۔

جنگ بندی اور امن مشن کی ذمہ داریاں
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران UNIFIL کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا کہ حزب اللہ نے اقوام متحدہ کے امن کارکنوں کی ایمبولینسوں اور امدادی سرگرمیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس میں ان کے دہشت گردوں کو تحفظ اور فرار کا راستہ فراہم کرنا شامل تھا۔ ان الزامات کی روشنی میں امن فوج کو براہ راست حملوں اور گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس سے تنظیم کے کارکنوں کو جانی نقصان پہنچا اور اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

UNIFIL کا موقف اور آگے کا لائحہ عمل
UNIFIL نے اپنے جاری بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی کے بعد امن فوج نے نئی صورت حال سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ تنظیم کے مطابق، امن مشن لبنان اور اسرائیل کی حمایت کے لیے تیار ہے اور دشمنی کے خاتمے کو دیرپا بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

بیان میں کہا گیا، "ہم تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ جنگ بندی کے مثبت اثرات کو یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام لایا جا سکے۔"

موجودہ حالات کا اثر
جنگ بندی کے بعد UNIFIL کے کارکنوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئی صورت حال سے امن مشن کی ذمہ داریاں مزید آسان ہوں گی، اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔ تاہم، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں، اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیے آئندہ دنوں میں چیلنجز برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔