قیمتی جانوں کے ضیاع پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ بار

وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور فوری عہدوں سے مستعفی ہوں،صدرمیاں رئوف عطا
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدرمیاں رئوف عطاء نے کہاہے کہ وکلاء برادری اسلام آباد میں دوران احتجاج ضائع ہونے والی قیمتی جانوں اور زخمیوں کے بنیادی حقوق پر آنکھیں بندنہیں کرسکتی ۔اس حوالے سے بدھ کوجاری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اعلامیہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا کا بھی استعفیٰ مانگ لیا۔سپریم کورٹ بار صدر میاں رئوف عطاء نے کہاکہ بار نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور سویلین بالادستی کی آواز اٹھائی۔ سپریم کورٹ بار سفاکانہ اور قابل مذمت اقدام کی طرف آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم سے متعدد انسانی جانیں ضائع اور درجنوں شدید زخمی ہوئے۔انھوں نے کہاکہ جس طرح سے وزیرداخلہ نے اس طرح کے ظلم وبربریت کے احکامات جاری کیے ہیں اس کے لیے ہم ان کے استعفیٰ کامطالبہ کرتے ہیںاوزیرداخلہ نے جانتے بوجھتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرائی جواپنے آئینی حق کے تحت احتجاج کے لیے موجودتھے۔وزیرداخلہ عوام کے منتخب نمائندہ نہیں ان کوصرف سیلیکٹ کیاگیاہے،سیاسی گفت وشنیداورمذاکرات سے ان معاملات کوسلجھایا جاسکتاتھا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الفوروہ وزارت داخلہ سے مستعفی ہوں اور کسی عوامی نمائندے کواس عہدے پر مقررکیاجائے۔انھوں نے وزیراعلی کے پی کے امین گنڈاپورکے حوالے سے بھی کہاہے کہ وہ عوامی مارچ لے کرآئے ان کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں لاء اینڈآرڈرکی صورت حال خراب ہوئی انھیں بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاناچاہیے۔