اتنے انتظامات کے باوجود مظاہرین ڈی چوک کیسے پہنچ گئے:فضل الرحمن

پرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں‘پی ٹی آئی رابطے میں رہے تو ان کیلئے کردار ادا کرسکتا ہوں
پی ٹی آئی کو کہا تھا  26ویں آئینی ترمیم کو ووٹ نہ دیں:سربراہ جے یوآئی کی میڈیا سے گفتگو
لاڑکانہ(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے  اسلام آباد میں پْرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں، پی ٹی آئی اگر رابطے میں رہے تو اْن کے لیے کردار ادا کرسکتا ہوں۔لاڑکانہ میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں انہوں نے کچھی کینال منصوبے پر کہا  ہم سب ایک قوم اور ملک ہیں، معاملات اتفاق رائے سے ہونا ضروری ہے، ہماری جماعت روز اول سے صوبائی خودمختاری کی قائل ہے۔انہوںنے کہا ہم نے دھرنے دیے، پی ڈی ایم کے مارچ ہوئے، آزادی مارچ میں 15 لاکھ سے زیادہ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوئے مگر کہیں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، کارکن کو جدوجہد اور تشدد کے بغیر راستہ دکھانا ہوگا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان بدامنی کا شکار ہیں اور دونوں صوبوں کی حکومتی غیر سنجیدہ ہیں۔ فضل الرحمن نے کہا  حکومت جیل میں رکھنے اور وہ باہر نکالنے کی ضد میں رہے تو ملک میں انارکی ہوگی۔ پی ڈی ایم کے دور میں دینی مدارس کے ڈرافٹ پر زرداری، بلاول اور نواز شریف نے طویل مشاورت کے بعد اتفاق کیا مگر آج اس پر اعتراض کیا جارہا ہے اور میں جلد اس پر بہت کھل کر بات کروں گا۔انہوں نے کہا  موجودہ حالات 8 فروری کے الیکشن کیوجہ سے ہیں، میں نے پی ٹی آئی کو کہا تھا  26ویں آئینی ترمیم کو ووٹ نہ دیں۔