اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی‘3 اہلکار شہید ہوگئے جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں پاک فوج کو طلب کرلیا گیا ‘شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے
ڈی چوک پہنچ گئے ہیں لیکن عمران خان کا جب تک حکم نہیں آنا ہم نے واپس نہیں جانا‘ پرامن دھرنا دینا ہے‘یہ ہمارا ملک ہے ‘ اس ملک کو آزاد کرانے نکلے ہیں، کسی کا باپ بھی اپنے فیصلے ہم پر مسلط نہیں کرسکتا:علی امین گنڈا پورا
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے آبپارہ مارکیٹ اور سپر مارکیٹ بند کروا دیں، خیابان سہروردی سے آبپارہ تک سڑکوں سے گاڑیاں بھی ہٹوا دی گئیں‘ڈی چوک سے ملحقہ بلیو ایریا میں بھی دکانیں اور سروس روڈ سے گاڑیاں ہٹوا دی گئیں
پہلا نٹرو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی قافلے ڈی چوک پہنچ گئے‘ پاک فوج نے ڈی چوک کا کنٹرول سنبھال لیا ، پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ اور کارکنوں کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا‘پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے آبپارہ مارکیٹ اور سپر مارکیٹ بند کروا دیں، خیابان سہروردی سے آبپارہ تک سڑکوں سے گاڑیاں بھی ہٹوا دی گئیں۔ ڈی چوک سے ملحقہ بلیو ایریا میں بھی دکانیں اور سروس روڈ سے گاڑیاں ہٹوا دی گئیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے ہم ڈی چوک پہنچ گئے ہیں لیکن عمران خان کا جب تک حکم نہیں آنا ہم نے واپس نہیں جانا۔ڈی چوک پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ حکومت نے فسطائیت شروع کر رکھی ہے لیکن ہم نے پرامن دھرنا دینا ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے اور اس ملک کو آزاد کرانے نکلے ہیں، کسی کا باپ بھی اپنے فیصلے ہم پر مسلط نہیں کرسکتا۔اس موقع پر بشریٰ بی بی نے ڈی چوک پہنچنے والے کارکنوں سے وعدہ لے لیا کہ وہ عمران خان کو ساتھ لیے بغیر ڈی چوک نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا عمران خان صرف آپ لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے ہیں اور کھڑے رہیں گے، آپ لوگوں کو وعدہ کرنا ہے کہ جب تک عمران خان آپ لوگوں کے بیچ نہیں آجاتے آپ لوگ ڈی چوک کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے میں آخری فرد ہوں گی جو ڈی چوک پر رہے گا اور خان کو لیے بغیر یہاں سے نہیں نکلوں گی، اور اگر آپ سے کوئی یہ کہے کہ بی بی ڈی چوک چھوڑ کر چلی گئی تو یہ جھوٹ ہوگا۔
قافلے پہنچ گئے
دوسراانٹرو
اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر مبینہ طورپر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں 4 رینجرز اہلکار شہید ہوگئے، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں پاک فوج کو طلب کرلیا گیا اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات دئیے گئے ۔وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی کو کسی بھی علاقے میں امن امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کرفیو لگانے کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 6 اہلکار شہید ہوئے جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔مجموعی طور پر اب تک 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔