ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں مسترد

ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں مسترد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی سے روکنے سے متعلق ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو امریکی سینیٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

ری پبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں اس قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 53 ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد یہ قرارداد ناکام ہو گئی۔ اس فیصلے کے بعد اب ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے لیے صدر کو کانگریس سے پیشگی منظوری لینے کی پابندی نہیں رہی۔

 قرارداد کا مقصد کیا تھا؟
ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے قبل امریکی کانگریس کی منظوری حاصل کرنا لازم ہو گا۔ تاہم، اس قرارداد کو ناکام بنا کر وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف آزادانہ کارروائی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 صدر ٹرمپ کا موقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر دوبارہ حملہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں۔

 امریکی حملے کا جواز اور اقوام متحدہ سے موقف
امریکا نے ایران پر حالیہ حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کا حق قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو روکنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

امریکی خط میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کا مقصد ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا، تاکہ ممکنہ ایٹمی خطرے سے دنیا کو محفوظ رکھا جا سکے۔

 ایران کے ساتھ معاہدے کی گنجائش باقی؟
باوجود ان کارروائیوں کے، امریکی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے، بشرطیکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔