امریکی سینیٹ نے ایران پر حملوں کیلئے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران پر حملوں کیلئے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے ایک اہم قرار داد کو مسترد کردیا ہے۔

 اس قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران پر ممکنہ فضائی حملوں سے قبل کانگریس سے منظوری لی جائے تاکہ کسی بھی فوجی کارروائی کو پارلیمانی سطح پر جائز قرار دیا جا سکے۔ اس کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا عمل ہوا، جس میں 52 سینیٹروں نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 47 سینیٹروں نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس طرح یہ قرار داد کامیاب نہ ہو سکی اور مسترد قرار پائی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران، اکثریتی رائے نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت جاری رکھی، مگر قانون سازی کے اس مرحلے پر زیادہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ قرار داد میں دونوں پارٹیوں کے سینیٹرز نے یہ موقف اپنایا تھا کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے تاکہ اس کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی اکثریتی ہے، جن کے پاس 53 نشستیں ہیں، جبکہ اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ، 2 آزاد امیدوار بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے حق میں ہیں۔ اس صورتحال میں، اکثریتی پارٹی کی حمایت کے باوجود، قرار داد کو کامیابی نہیں ملی اور اسے مسترد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے پارلیمانی اور سیاسی سطح پر واضح اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔