ان کو کسی نے مائنس نہیں کیا ان کو ان کی ناقص کارکردگی نے مائنس کیا ہے‘اپوزیشن شور مچاتی رہی، ہم عوامی خدمت میں مصروف رہے
ہر ضلع، تحصیل میرے لئے برابر ہے، ٹیکس نہ لگانا معجزہ ہے‘بجٹ منظور کرنے پر ارکان کا شکریہ ادا رکرتی ہوں:وزیراعلی پنجاب کی بجٹ تقریر
لاہور(آئی این پی)وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کو مائنس کرنے والا آج خود مائنس ہوگیا ہے، جس کی تصدیق علیمہ خان نے خود کی ہے اور ان کو کسی نے مائنس نہیں کیا بلکہ ان خود ان کی ناقص کارکردگی نے مائنس کیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا، تاریخ کی سب سے بڑی اسپینڈنگ کرنی ہے، پھر اس کے بعد کوئی ٹیکس نہ لگانا معجزہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتی ہوں جس نے نہ صرف بجٹ پیش کیا بلکہ کثرت رائے سے منظور کرایا، پنجاب کا 30 سال کا ڈومیسٹک قرضہ آج ڈیڑھ سال میں اللہ کے فضل سے صفر ہو چکا ہے اور مسلسل دوسرے سال ٹیکس فری بجٹ دینے کے باوجود پنجاب کا ان سورس ریونیو 50 فیصد بڑھا ہے۔مریم نواز کی تقریر کے دوران اسمبلی میں اپوزیشن نے اسپیکر کی رولنگ ہوا میں اڑا دی اور سیٹوں سے اٹھ کے احتجاج اور نعرے بازی کی۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بجائے ٹیکس میں اضافہ کرنے کے ٹیکس نیٹ بڑھایا ہے، مائنز اینڈ مںنرلز کے شعبے میں میں 30 ارب روپے کی بچت کی ہے، مائنز اینڈ منرلز میں انقلابی کام کرنے پر وزیر شیر علی گورچانی اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی کنڈیشن کے ساتھ ہم نے بچت کی اور آئی ایم ایف کا سرپلس ٹارگٹ پورا کیا، یہ آسان کام نہیں تھا، بہترین مالی مینجمنٹ کی وجہ سے ہم اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ پہلے سال کی طرح ہم نے صرف منصوبوں کا اعلان نہیں کیا بلکہ سب سے بڑا ترقیاتی فنڈ رکھا اور اس میں ایک ہزار 13 ارب عوام پر خرچ ہوچکا ہے، میں نے پہلی تقریر میں کہا تھا میرا مقابلہ کسی اور سے نہیں اپنی کی جماعت کے جائینٹس سے ہے جن کا نام نواز شریف اور شہباز شریف ہے۔انہوں نے کہا کہ اراکین صوبائی اسمبلی کے تعاون کے بغیر میں یہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی تھی،اپنے اراکین اسمبلی کے صبر اور ان کی بردباری کو سیلوٹ پیش کرتی ہوں، اس سے پہلے ہائیسٹ یوٹیلائزیشن 585 بلین تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے سال جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے اور آج میں اپنے آپ کو آپ کے سامنے اور اس پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوںے کے لیے حاضر ہوں، میں نے بغیر کسی تفریق کے کام کیا، میرے ہر منصوبے میں پنجاب کے ہر علاقے کے شہری کا وہی حصہ ہے جو لاہور کے باسیوں کا حصہ ہے۔دریں اثناء وزیراعلی کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کیا‘نعرے لگاتے رہے‘حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے