غزہ میں امدادی مراکز دوبارہ کھول دیے گئے، بچوں میں غذائی قلت تین گنا بڑھ گئی، اسرائیل نے دو قیدیوں کی لاشیں بازیاب کر لیں

غزہ میں امدادی مراکز دوبارہ کھول دیے گئے، بچوں میں غذائی قلت تین گنا بڑھ گئی، اسرائیل نے دو قیدیوں کی لاشیں بازیاب کر لیں

غزہ: امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ امدادی تنظیم "غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF)" نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح میں عارضی بند کیے گئے دو امدادی مراکز دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

یہ مراکز بدھ کو قریبی فائرنگ کے واقعات کے باعث بند کیے گئے تھے، لیکن اب ان میں سے ایک نئی جگہ پر منتقل کر کے کام شروع کر دیا گیا ہے۔GHF گزشتہ ہفتے سے غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق تنظیموں نے اس پر غیرجانبداری نہ رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی محاصرے کے 11 ہفتے مکمل ہونے کے بعد غزہ کے 23 لاکھ سے زائد افراد قحط کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ خاص طور پر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح مئی میں فروری کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ کر 5.8 فیصد ہو گئی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اغوا کیے گئے دو اسرائیلی-امریکی قیدیوں کی لاشیں بازیاب کر لی گئی ہیں۔ اس وقت بھی 56 قیدی زیر حراست ہیں جن میں سے نصف سے کم زندہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔غزہ میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 20 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں جن میں چار صحافی بھی شامل ہیں۔ حماس کے میڈیا دفتر کے مطابق اب تک 225 صحافی اسرائیلی حملوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔