ویب ڈیسک: مارگلہ کی پہاڑیوں میں پیش آنے والے ایئربلیو طیارہ حادثے کو آج 15 برس بیت گئے، لیکن اس دلخراش سانحے کی یادیں اور غم آج بھی تازہ ہیں۔
یہ بدقسمت طیارہ صبح 7 بجکر 41 منٹ پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا اور 9 بجکر 41 منٹ پر اسلام آباد ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اسی دوران طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوا اور 6 کریو ممبران سمیت 152 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے اہم نکات:
سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے اپنی رپورٹ میں حادثے کا ذمہ دار پائلٹ کو قرار دیا۔پائلٹ نے فلائنگ ڈسپلن اور حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔خراب موسم کے باوجود طیارہ نیچے لانے کی کوشش اور خطرناک علاقے میں کم اونچائی پر پرواز حادثے کا سبب بنی۔رپورٹ کے مطابق کاک پٹ ریسورس مینجمنٹ اور پائلٹ کی مہارت میں ناکامی بھی حادثے کا باعث بنی۔اس سانحے میں جان کی بازی ہارنے والے مسافروں اور عملے کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ 15 برس گزرنے کے باوجود ان کے زخم آج بھی ہرے ہیں اور پیاروں کی یادیں تازہ ہیں۔