ویب ڈیسک: پاکستان میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے خوفناک زلزلے کو آج 20 برس بیت گئے۔
ریکٹر اسکیل پر 7.6 شدت کے اس زلزلے نے آزاد کشمیر، ہزارہ ڈویژن اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی تھی، جس میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔چند سیکنڈز میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، ہنستے بستے شہر اجڑ گئے، اور پورا ملک غم و الم میں ڈوب گیا۔مشکل کی اس گھڑی میں حکومتِ پاکستان، عوام اور دوست ممالک نے بروقت ریسکیو و ریلیف کارروائیوں کے ذریعے زلزلہ متاثرین کی مدد میں تاریخی کردار ادا کیا۔زلزلے سے آزاد کشمیر کی 56 فیصد آبادی متاثر ہوئی، جہاں 46 ہزار سے زائد جاں بحق اور 33 ہزار زخمی ہوئے۔ 3 لاکھ سے زائد مکانات، تعلیمی ادارے اور صحت کی سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ خطے کے 53 فیصد رقبے پر بنیادی ڈھانچہ مٹ گیا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے اس موقع پر تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن انجام دیا، جس کے دوران 50 ہیلی کاپٹرز نے 19 ہزار پروازیں کیں۔تعمیرِ نو کے پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 7608 منصوبوں میں سے 5878 مکمل ہو چکے ہیں، 919 پر کام جاری ہے جبکہ 811 منصوبے مالی وسائل کی کمی کے باعث ابھی شروع نہیں ہو سکے۔
شعبہ تعلیم: 2718 منصوبوں میں سے 1606 مکمل
شعبہ صحت: 160 میں سے 119 منصوبے مکمل
مجموعی تخمینہ: 225 ارب روپے
خرچ شدہ رقم: 181 ارب روپے
باقی ضرورت: 44 ارب روپے
زلزلے میں جاں بحق افراد کی یاد میں آج مظفرآباد کے یونیورسٹی کالج گراؤنڈ میں مرکزی تقریب منعقد ہو رہی ہے۔تقریب میں شہدائے زلزلہ کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی جائے گی، جبکہ ریسکیو، ریلیف اور آفات سے نمٹنے کے اقدامات پر آگاہی سیشنز بھی ہوں گے۔یہ تقریب اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہی ہے، جہاں ان دوست ممالک کے پرچم بھی لہرائے جائیں گے جنہوں نے 2005 کی قیامت خیز آفت کے دوران کشمیری عوام کی مدد میں بھرپور حصہ لیا۔