سی پیک کو وسطی ایشیا سے جوڑنا خطے میں اقتصادی استحکام کا ذریعہ ہو گا:احسن اقبال

اب صنعتی تعاون، زراعت، آئی ٹی اور سماجی ترقی پر توجہ مرکوز ‘حکومت گوادر کی بندرگاہی صلاحیت سے بھرپور فائدہ کیلئے پرعزم ہے،وفاقی وزیر
 اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک کو وسطی ایشیا سے جوڑنا خطے میں اقتصادی استحکام کا ذریعہ ہو گا‘سی پیک کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے،سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت، آئی ٹی اور سماجی ترقی پر توجہ مرکوز ہے۔حکومت گوادر کی بندرگاہی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ کی ملاقات ہوئی۔وفاقی وزیر میری ٹائم افئیرز محمد جنید انوار چوہدری بھی شریک تھے۔اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلی سطحی وفود نے بھی شرکت کی ۔وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہا کہ آئندہ ہونے والی جے سی سی میں اہم فیصلے متوقع ہیں جن سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے اقدامات اٹھائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گوادر کی ترقی اور اقتصادی زونز کی تعمیر اہم ترجیح ہے، حکومت گوادر کی بندرگاہی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔گوادر اور اس کے گردونواح میں معدنیات کے شعبے میں بے شمار مواقع موجود ہیں، جدید انفراسٹرکچر کے قیام کے ذریعے معدنیات کا بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔چین کے ساتھ زراعت کے شعبے میں شراکت داری جاری ہے۔چین سے تربیت یافتہ ایگری گریجوئیٹس موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ہوں گے۔پاکستان سپیس سینٹر کا قیام قومی اہمیت کا حامل ہے، اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لئے چین کلیدی کردار ادا کرے گا۔چینی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون آنے والے برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔