تسنیم رضا
پنجاب بورڈ کا رزلٹ آیا ہے، جس میں بہت سے بچوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ چند ایک نے تو پچانوے فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کر لیے ہیں، اور ایک دو بچوں نے ننانوے فیصد تک نمبر لے لیے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان نمبروں کے حصول کے لیے بچوں نے بہت محنت کی ہوگی۔ اس کی گئی محنت اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی پر یہ بچے سراہے جانے، مبارک باد اور شاباش کے مستحق ہیں، اور ان کا رزلٹ بتاتا ہے کہ یہ بچے واقعی بہت ذہین ہیں۔اور تمام میڈیا پر ان کی ذہانت کا اعتراف بھی کیا جارہا ہے۔لیکن
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن بچوں نے ان امتحانات میں کم نمبر حاصل کیے، یا وہ جو کامیابی حاصل ہی نہیں کر سکے—کیا وہ ذہین نہیں ہیں؟ کیا وہ اس قابل نہیں کہ انہیں سراہا جائے اور کم نمبر لینے کے باوجود ان کی قابلیت کا اعتراف کیا جائے؟ اور کیا ذہانت کا معیار صرف زیادہ نمبر حاصل کرنا ہی ہے؟ کہیں اس کے پیچھے بہتر یادداشت یا محض "رٹا" تو نہیں؟ اور کیا زندگی میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو پچانوے فیصد سے زائد نمبر لاتے ہیں؟
بدقسمتی یہ ہے کہ جب ایک بچہ کم نمبر لیتا ہے تو ہم فوراً اسے "ناکام" کہہ دیتے ہیں۔ اسے نالائق، سست، غیر سنجیدہ اور پتہ نہیں کیا کیا سننا پڑتا ہے، حالانکہ ہو سکتا ہے وہ بچہ ایک غیر معمولی مصور ہو، یا ایک زبردست کہانی کار، یا ایک ہمدرد انسان۔ لیکن ہم نے کامیابی کی صرف ایک ہی تعریف طے کر رکھی ہے — نمبر۔ اور جو اس تعریف میں نہ آئے، وہ بے وقعت۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نمبر صرف ایک زاویہ ہیں، پوری تصویر نہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے کامیاب انسانوں کے پاس شاید ہمارے سکولوں کے لحاظ سے "اچھے" نمبر نہ تھے، لیکن ان کے پاس وہ جذبہ، ہنر اور لگن تھی جو کسی بھی کتاب سے سیکھنا ممکن نہیں۔ اصل تعلیم وہ ہے جو زندگی میں کردار، ہمدردی، سچائی اور مستقل مزاجی پیدا کرے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک بچہ، جس نے ساری رات جاگ کر پڑھا، وہ امتحان میں کیوں بھول گیا؟ کیا وہ نالائق ہے، یا بس ایک حساس دماغ ہے جو دباؤ میں خود کو سنبھال نہیں پایا؟ ہر بچہ الگ ہوتا ہے—کوئی معلومات جلدی یاد رکھ لیتا ہے، کوئی دیر سے۔ لیکن یاد رکھنے کی صلاحیت اور اس کو پرکھنے کا ایک ہی طریقہ — ایک دن کا تین گھنٹے کا پرچہ — اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نمبر، کسی طور بھی مکمل معیار نہیں ہو سکتے۔
بعض والدین اور کچھ اساتذہ کا خیال ہے کہ بچوں کی ناکامی اور کم نمبر حاصل کرنے میں اس نرمی اور شفقت کا ہاتھ ہے جو بچوں کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس پر سختی کی جائے، اور جسمانی اذیت دینے سے بھی گریز نہ کیا جائے، تاکہ بچہ اعلیٰ نمبر لے کر کسی بڑے ادارے میں میرٹ پر داخلہ حاصل کرے اور ڈاکٹر یا انجینئر بن کر اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے بہت سے والدین، اساتذہ اور ادارے اب بھی تشدد کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی تشدد—خواہ جسمانی ہو یا ذہنی—بچے کو کامیاب انسان بنا سکتا ہے؟
اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے دین سے رجوع کرنا ہوگا کہ ہمارے دین نے اور معلمِ حقیقی حضرت محمد ? نے کیا مثال قائم کی ہے۔
نبی اکرم ? نے بچوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا جو عملی نمونہ پیش کیا، وہی ہمارے لیے مستقل رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ حضرت انس? فرماتے ہیں: "میں دس سال نبی ? کی خدمت میں رہا، نہ کبھی آپ نے مجھے اف کہا، نہ کبھی مارا، نہ کبھی جھڑکا۔" (مسند احمد)۔
اسی طرح آپ ? نے فرمایا: "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہوں۔" (ترمذی)
تو بہتر تو وہی ہوگا جو اپنے بچوں پر شفقت کرے گا اور ان کے جذبات کا خیال رکھے گا، نہ کہ لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑا رہے گا۔
بچپن تربیت کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب شخصیت بنتی ہے، سوچ کے زاویے طے ہوتے ہیں اور سیکھنے کا عمل اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ مگر جب تعلیم گاہیں، جنہیں علم اور شفقت کا گہوارہ ہونا چاہیے، مار، تذلیل اور سختی کا مرکز بن جائیں، تو وہی بچپن، جسے پرواز کے لیے پنکھ ملنے تھے، خوف، شرمندگی اور بیاعتمادی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
جسمانی سزا بچے کی شخصیت میں خوف، بیاعتمادی، خود سے نفرت، جارحیت اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی پیدا کرتی ہے۔ مار صرف جسم پر نہیں لگتی، یہ بچے کی خودی کو مجروح کرتی ہے۔ وہ سیکھنے سے نہیں، سزا سے بچنے کے لیے رٹا لگاتا ہے۔ اور بعض اوقات رٹا لگا کر اچھے نمبر بھی حاصل کرلیتا ہے، لیکن ایسے بچے زندگی بھر کسی نہ کسی خوف کا شکار رہتے ہیں۔
یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، جسمانی سزا بچوں میں ڈپریشن، کمزور خوداعتمادی، اور تعلیم سے بیزاری کو جنم دیتی ہے۔ ایسی سزا بچوں میں نہ نظم پیدا کرتی ہے، نہ ہی کامیابی کا جذبہ، بلکہ صرف وقتی فرمانبرداری اور اندرونی بغاوت کا امتزاج چھوڑ جاتی ہے۔
کچھ اساتذہ اور والدین کہتے ہیں: "ہم نے بھی مار کھا کر ہی کچھ سیکھا تھا۔" مگر اس دلیل کا مطلب کیا یہ ہے کہ جو غلطی ہم پر ہوئی، ہم بھی وہی اپنی نئی نسل پر دہرائیں؟ یہ منطق ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے، "ہم بھی تو بغیر سیٹ بیلٹ گاڑی چلاتے تھے،ہمارے بچے بھی بغیر سیٹ بیلٹ کے گاڑی چلاء یں گے ؟"ہم یہ کیوں نہ کہیں کہ اگر مار کے بغیر ہم بہتر انسان بن سکتے تھے، تو آنے والی نسل کو وہ مہربان ماحول نہ دیں جس کے ہم خود مستحق تھے، مگر ہمیں نہ ملا؟
"اس عاجز نے اپنے بچے کو صرف ایک ہلکا سا تھپڑ مارنے پر خاتون ٹیچر سے نہ شکوہ کیا، نہ ہی تضحیک کا رویہ اپنایا—بس خاموشی سے بچے کو اْس اسکول سے اٹھا لیا۔ مقصد کسی کی بیعزتی نہ تھا، صرف یہ چاہتا تھا کہ اگر کل میرا بچہ خود استاد بنے، تو کہیں مارنے کو سکھانے کا درست طریقہ نہ سمجھنے لگے۔ بات وہی ہے: اگر ہم مار کھا کر سیکھیں گے، تو مار کے ہی سکھائیں گے—اور پھر بہتری کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔"
اب وہی بچہ، جسے کبھی مارا نہیں گیا، جس نے بڑے نمبروں کی دوڑ میں خود کو نہیں جھونکا، جس نے اکیڈمیوں کے سہارے کو ضروری نہیں سمجھا—آج کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی لاہور میں ایم بی بی ایس کا طالبعلم ہے۔ اور یقین مانیے، میرے آس پاس ایسی کئی روشن مثالیں موجود ہیں۔
مار سے بننے والے ہونہار اکثر محض نمبر لانے والے روبوٹ ہوتے ہیں۔ وہ سیکھنے سے نہیں، خوف سے پڑھتے ہیں۔ ان میں تجسس، سوال اٹھانے کی جر?ت، خوداعتمادی یا تخلیقی سوچ کا فقدان ہوتا ہے۔ وہ صرف امتحانوں کے لیے جیتے ہیں، زندگی کے لیے نہیں۔
دوسری طرف، ایسے اساتذہ جو محبت، صبر، اور حوصلہ افزائی سے پڑھاتے ہیں، وہ بچوں کی شخصیت میں اعتماد، شوق اور مثبت سوچ پیدا کرتے ہیں۔ ایک استاد کا کہا گیا سادہ سا جملہ — "تم یہ کرسکتے ہو" — بعض اوقات ایک بچے کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ ایک طالبعلم کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا، اسے انسان کے بجائے مشین بنانے کی کوشش ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نمبر نہیں، بلکہ سوچ، شعور اور کردار کی تعمیر ہے۔ اور یہ صرف محبت اور رہنمائی سے ممکن ہے۔
ہمارے عدالتی نظام نے بھی اس پر توجہ دی ہے۔ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے طالبعلم پر استاد کے تشدد کے خلاف تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا:
"تشدد، تربیت کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ اسکول، جیل نہیں ہے۔ بچوں کو مارنا ایک جرم ہے۔"
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد تشدد پر یقین رکھنے والے اساتذہ کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ بچے کو مارنے کے بعد استاد نہیں بلکہ ایک مجرم ہوتے ہیں۔
ہم اپنی نسلوں کے ساتھ وہ سلوک کریں جو ہم اپنے ساتھ چاہتے ہیں۔ استاد صرف ایک مضمون نہیں پڑھاتا، وہ ایک زندگی تراشتا ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنے الفاظ یا ہاتھ سے کسی شخصیت کو مسخ کرے۔ والدین صرف تعلیمی کارکردگی کے پیچھے نہ بھاگیں، اپنے بچوں کی ذہنی صحت، جذباتی توازن اور خودی کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔
آج جب مقابلہ سخت ہے، داخلے مہنگے اور نمبروں کا دباؤ بہت زیادہ ہے، ہم اس حقیقت کو بھول چکے ہیں کہ اصل کامیابی وہ ہے جو بچے کو ایک متوازن، باوقار اور مثبت انسان بنائے۔ اگر ہم ان کے ذہنوں میں خوف بٹھا کر ڈگری تو دلوادیں، مگر دلوں سے خوداعتمادی اور حوصلہ چھین لیں، تو یہ تعلیم نہیں بلکہ ایک جذباتی قتل ہے۔
ایک اچھے ادارے میں داخلہ ضرور اہم ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ بچہ اپنی ذات پر یقین رکھے، اپنی سوچ رکھے، سوال کرنے کی جرات رکھے اور زندگی کے میدان میں اعتماد سے کھڑا ہو۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ایک زخم جو جسم پر ہوتا ہے، وہ وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، مگر جو زخم استاد کے الفاظ یا ہاتھ سے دل پر لگتا ہے، وہ عمر بھر کی خاموشی، خوف اور شکست بن کر ساتھ رہتا ہے۔ہمارے اساتذہ کو سمجھ لینا چاہییکہ تعلیم کا مقصد زندگی کو روشن کرنا ہے، تاریک کرنا نہیں، اور رٹا لگا لگا کر معاشرے کو نمبر لانے والے روبوٹ نہیں، بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل باکردار انسان چاہییں۔