انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ

فرزانہ اقبال

انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی امن، داخلی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں غربت، بے روزگاری، جنگی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام انسانی اسمگلنگ کے بنیادی اسباب ہیں۔ ان حالات میں مجبور اور نادار افراد بہتر زندگی کی تلاش میں ان راہوں پر نکل کھڑے ہوتے ہیں جس کا انجام انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ یہ افراد انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں جو انہیں جھوٹے خواب دکھا کر ایسی سرزمین پر پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہیں جہاں دولت، سکون اور آزادی ان کے منتظر ہوں گے۔انسانی اسمگلنگ ایک منظم جرم ہے جس میں اکثر بین الاقوامی مافیا، کرپٹ سرکاری اہلکار، جعلی دستاویزات بنانے والے نیٹ ورک اور غیر قانونی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک شامل ہوتے ہیں۔ اسمگلرز نہ صرف مرد و خواتین بلکہ بچوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور انہیں جبری مشقت، جسم فروشی، بھیک منگوانے یا دیگر غیر انسانی کاموں کے لیے فروخت کر دیتے ہیں۔ ان افراد کی شناخت چھین لی جاتی ہے، انہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ان کی آواز کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک میں جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری، غربت، تعلیمی فقدان اور سیاسی بدحالی کا شکار ہے وہاں سے غیر قانونی بارڈر کراسنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لوگ ایران، ترکی اور لیبیا کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی افراد بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں، سمندر کی بے رحم موجوں اور صحرا کی جھلسا دینے والی دھوپ سے گزرتے ہوئے زندگی کا سفر شروع کرتے ہیں مگر ان میں سے بہت سے اس سفر کو مکمل نہیں کر پاتے۔ کوئی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے، کوئی سمندر میں ڈوب جاتا ہے، کوئی پیاس سے مر جاتا ہے تو کوئی کسی اسمگلرز کے تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ کو ایک جرم قرار دیا گیا ہے اور کئی ممالک نے اس کے خلاف سخت قوانین وضع کیے ہیں تاہم اس جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے اکثر بچ نکلتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرحدی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی کرپشن اور غفلت ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے متاثرین اسمگلنگ کے خلاف گواہی دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی غیر قانونی طریقے سے بارڈر کراس کر کے اس ملک میں پہنچے ہوتے ہیں جہاں وہ گرفتار ہونے یا ملک بدری کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔غیر قانونی بارڈر کراسنگ ایک علیحدہ مگر اس سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد بغیر قانونی اجازت کے کسی دوسرے ملک کی سرحد عبور کرتے ہیں۔ یہ افراد عموماً جنگ، ظلم، غربت یا استحصال سے بھاگ کر ایک محفوظ، خوشحال اور بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ مگر یہ کوشش اکثر ان کے لیے ایک خوفناک خواب بن جاتی ہے۔ ان کے پاس نہ رہائشی اجازت ہوتی ہے، نہ روزگار کی ضمانت، نہ علاج کی سہولت اور نہ ہی کوئی قانونی تحفظ۔ ان کی موجودگی میزبان ممالک میں سماجی کشیدگی، نسلی امتیاز اور جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے جبکہ خود یہ افراد مسلسل خوف، محرومی اور استحصال کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے پیچھے بنیادی محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک دنیا میں غربت، سیاسی استحصال، جنگی حالات اور ترقی کے غیر منصفانہ مواقع موجود ہیں، اس غیر قانونی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، موثر قوانین، سخت نگرانی، سرحدی علاقوں کی ترقی اور سب سے بڑھ کر لوگوں کو ان کے اپنے وطن میں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی فرد اپنے ملک میں باعزت روزگار حاصل کر سکتا ہو، تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہوں اور زندگی محفوظ ہو تو وہ کبھی جان ہتھیلی پر رکھ کر غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کرے گا۔حکومتوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑیں بلکہ ان متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کریں جو اس گھنائونے دھندے کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما اور سماجی کارکن اس شعور کو عام کریں کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کوئی حل نہیں بلکہ ایک اور اندھیرے کی طرف قدم ہے۔ اس میں نوجوانوں کو خاص طور پر یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی کے حالات جیسے بھی ہوں، جھوٹے خوابوں کے پیچھے بھاگنا صرف نقصان اور رسوائی کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے، کوسٹ گارڈز اور انٹیلی جنس ادارے وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے ہیںجن میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے اور کئی اسمگلنگ نیٹ ورکس بے نقاب ہوتے ہیںمگر اس مسئلے کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ صرف گرفتاریوں سے یہ ختم نہیں ہو سکتا۔ جب تک اسمگلرز کو مقامی سطح پر سہولت کار میسر رہیں گے، جب تک جعلی پاسپورٹ بنانے والے آزاد گھومتے رہیں گے اور جب تک رشوت لینے والے اہلکار سزا سے بچتے رہیں گے تب تک یہ ناسور پھیلتا رہے گا۔ ان ممالک کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی جو ہجرت کے خواہاں افراد کو اپنے معاشرے میں قبول کرنے کے لیے سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر قانونی ہجرت کے لیے باعزت، شفاف اور موثر راستے موجود ہوں تو لوگ غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوں گے۔ یورپ، امریکہ، خلیجی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کو محض ایک خارجی خطرہ سمجھنے کی بجائے اس کی بنیادی وجوہات کا ادراک کریں اور ان کے حل میں معاون کردار ادا کریں۔۔۔جب تک دنیا میں مواقع کی غیر مساوی تقسیم رہے گی، جب تک کچھ معاشرے دوسروں کے لیے خوابوں کا استعارہ بنے رہیں گے اور جب تک غربت، جبر اور بے بسی انسانی تقدیر کا حصہ بنی رہے گی، تب تک انسانی اسمگلنگ ایک کڑوا سچ بن کر ہمارے سامنے کھڑا رہے گا۔