لاہور میں موٹر سائیکلوں کیلئے سیفٹی راڈز کم پڑگئے

لاہور(خصوصی رپورٹ) بسنت کے موقع پر لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کیلئے تقسیم کیے جانے والے سیفٹی راڈز ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب کی جانب سے فراہم کیے گئے سیفٹی راڈز کی تعداد شہر میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں محض 20 فیصد ہے، جس پر شہریوں میں تحفظات پائے جا رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی مجموعی تعداد 56 لاکھ 52 ہزار سے زائد ہے، جبکہ حکومت نے صرف 10 لاکھ سیفٹی راڈز خرید کر ٹریفک پولیس کے حوالے کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے 4 لاکھ سیفٹی راڈز چار فٹ نارمل میٹریل پر مشتمل ہیں جن کی قیمت 50 روپے فی راڈ مقرر کی گئی ہے، جبکہ 6 لاکھ میٹل سیفٹی راڈز خریدے جا رہے ہیں جن کی فی راڈ قیمت 150 روپے بتائی جاتی ہے۔سیفٹی راڈز کی شفاف اور منظم تقسیم کیلئے ڈیٹا ایپ کے ذریعے ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے، جس میں راڈ وصول کرنے والے شہری کا شناختی کارڈ نمبر، موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر اور موبائل نمبر شامل کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر بھر میں 100 مقامات پر سیفٹی راڈز کی تقسیم کیلئے خصوصی سٹالز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ اب تک ٹریفک پولیس ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز موٹر سائیکلوں پر نصب کر چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے مہم مزید تیز کی جا رہی ہے۔