راولپنڈی میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا (کے پی) میں نیا صدر علی امین گنڈاپور کی تعیناتی پر وضاحت دی۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی مرضی سے کے پی کا نیا صدر منتخب کیا گیا تھا، اور انہوں نے خود عمران خان سے عہدہ چھوڑنے کی درخواست کی تھی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ایک ہی مذاکراتی کمیٹی تھی اور تمام مذاکرات ایک جگہ ہو رہے تھے، کہیں اور مذاکرات نہیں ہو رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی 27 سال سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کر رہی ہے، اور پارٹی آزاد عدلیہ اور پارلیمان کے ساتھ 26 ویں ترمیم کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر لڑے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے علی امین گنڈاپور کے حوالے سے یہ بتایا تھا کہ علی امین گنڈاپور پر کام کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور وہ اپنی نیند پوری نہیں کر پا رہے تھے، اس کے باوجود ان کی مرضی سے نیا صدر منتخب کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے ہٹانے کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ صرف ڈس انفارمیشن ہے، جس کی پی ٹی آئی مذمت کرتی ہے۔گوہر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے خود عمران خان سے کہا تھا کہ پارٹی کے امور کسی اور کو سونپے جائیں تاکہ وہ گورننس پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور کے پی میں کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔آخر میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات کھلے عام ہوں گے، چھپ کر نہیں، اور ان مذاکرات کا عمل ختم ہو چکا ہے۔