مذاکراتی کمیٹیوں کا چوتھا دور آج ،سپیکر آفس کا پی ٹی آئی رہنمائوں سے رابطہ، بریک تھرو کا امکان
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کا چوتھا دور آج منگل کوگیارہ بجکر 45 منٹ پر پارلیمنٹ ہائوس میں ہوگا۔ تحریک انصاف نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر رکھا۔کمیٹی روم نمبر پانچ میں ہونے والے اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے۔ حکومتی کمیٹی ان کیمرا اجلاس میں پی ٹی آئی کے مطالبات کا تحریری جواب دے گی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر حکومتی کمیٹی تحریری جواب سپیکر کو جمع کرا دے گی۔ادھر ذرائع کاکہنا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر تحریری جواب تیار کرلیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے گی تو تحریری جواب ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اگر جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تو جج کسی کی مرضی کے شامل نہیں ہوں گے،حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں سپیکر افس نے اپوزیشن اراکین سے ٹیلی فونک رابطے کئے ہیں۔سپیکر افس نے اپوزیشن اراکین عمر ایوب ،اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا ،علامہ راجہ ناصر عباس ،بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور حامد خان سے رابط کیا۔ان اراکین کو آج اجلاس کے وقت سے باقاعدہ آگاہ کیا گیا۔سپیکر افس نے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی رابط کیا اور اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ سپیکر ایاز صادق کو اپوزیشن نے آج کے اجلاس میں شرکت کی امید ظاہر کی ہے۔ذرائع سپیکر افس کے مطابق سپیکر نے ذاتی حیثیت میں رابطے کیے ہیں بریک تھرو ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اور سیکرٹری کو آگاہ کردیا ہے کہ آج کی میٹنگ میں نہیں بیٹھیں گے۔علی محمد خان،اسدقیصر و دیگر کے ہمراہ خیبر پختونخوا میں بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات سے سیاسی مسائل کا حل نکالیں گے، مذاکرات کے حوالے سے ہم نے 7دن کا وقت دیا تھا۔اسد قیصر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جو قوانین لا رہی ہے وہ بنیادی طور پر سول مارشل لا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیکا ایکٹ میں ترامیم کے بل کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم اس کے خلاف ملک گیر تحریک میں شامل ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگرمذاکرات جاری نہیں رہنے تو پھر مذاکراتی کمیٹی کیا کام کرے گی؟ اس کے بعد پی ٹی آئی والے جوکچھ باہرکریں گے اس کا رسپانس حکومت دے گی۔ پی ٹی آئی نے اپنی ڈیمانڈز ہم تک لانے کیلئے 6 ہفتے لیے اور ہم نے ان سے 7 ورکنگ ڈے مانگے تھے، مشترکہ اعلامیے میں سیون ورکنگ ڈے لکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تین اجلاسوں میں ایک باربھی نہیں کہاکہ7 دن کے اندرمطالبات نہ مانے توالگ ہوجائیں گے، پی ٹی آئی کی اب یہ ڈیمانڈ پتہ نہیں اڈیالہ سے آئی ہے یا کہاں سے آئی ہے؟ آج پی ٹی آئی اگرمیٹنگ کا حصہ نہیں بنتی تو اسپیکر اس کمیٹی کو تحلیل کردیں گے اور جب یہ عمل ختم ہوجائے گا تو پھرہماری کمیٹی بھی تحلیل ہوجائے گی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے سینیٹر عرفان صدیقی نے ملاقات کی اور انہوں نے وزیراعظم کوپی ٹی آئی کی کمیٹی سیمذاکرات کی تفصیل سیآگاہ کیا۔اس حوالے سے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مذاکرات سیگریز غیرجمہوری رویہ ہے جس سیکشیدگی کاماحول پیداہوتاہے، مفاہمت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔