لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں ایک خاتون سسرالیوں کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں انتقال کر گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق، ابتدا میں سسرالیوں نے اس کی موت کو ہارٹ اٹیک قرار دے کر دفن کر دیا، مگر خاتون کے بھائی نے پولیس میں مقدمہ درج کرانے کی درخواست دی ہے۔ خاتون کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کی بہن کے چہرے اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے، اور انہیں شک ہے کہ اسے قتل کرکے معاملہ چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، بھائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ تدفین کے بعد ہی انہیں اس کے موت کی اطلاع دی گئی، جو کہ ممکنہ طور پر واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہے۔ پولیس اس واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے، تاکہ اصل حقائق کا پتا چل سکے اور ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔ یہ واقعہ معاشرتی اور قانونی سطح پر خواتین کے حقوق اور حفاظت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ملزمان کو سخت سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں انصاف کا نظام مضبوط ہو اور خواتین محفوظ رہ سکیں۔