لاہور :ترقیاتی منصوبوں کیلئے درختوں کی کٹائی پر فوری پابندی عائد

آئندہ کسی منصوبے میں گرین بیلٹس یا پارکس کو متاثر نہیں کیا جائیگا:لاہور ہائیکورٹ
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے درختوں کی کٹائی پر فوری طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی،آئندہ کسی بھی منصوبے میں گرین بیلٹس یا پارکس کو متاثر نہیں کیا جائے گا،عدالت نیدرختوں کی کٹائی سے متعلق مسودہ منظوری کیلئے کابینہ کو بھجوانے کی بھی ہدایت کر دی اورلاہور کے تاریخی اندورن شہر شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر جاری حکمِ امتناعی میں 6 مارچ تک توسیع کر دی۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت میں درختوں کی کٹائی سے متعلق پی ایچ اے کے بنائے رولز کا مسودہ پیش کیا گیا ، عدالت نے اس حکومتی اقدام کو سراہا۔ عدالتی معاون نے موقف اپنایا کہ پی ایچ اے کا بجٹ پانچ ارب روپے ہے اور حکومت انہیں تین ارب دے رہی ہے،اسی لئے یہ اشتہارات اور بل بورڈز لگا لگا کر گرین سپیسز کو متاثر کرتے ہیں اور آمدنی بناتے ہیں۔عدالت نے کہا میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ آمدنی کے بہتر راستے ڈھونڈیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی مولانا شوکت علی روڈ پر ایک لاکھ بانس کے درخت لگانے جا رہی ہے ۔جسٹس شاہد کریم نے ہدایت کی کہ بانس کے ساتھ مقامی درختوں کو بھی ترجیح دی جائے۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ تفتیشی افسر سے پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ بالکل تعاون نہیں کررہی۔ عدالت نے کہا پراسیکیوٹر جنرل کے علم میں یہ معاملہ لیکر آئیں ،پراسیکیوٹر جنرل آفس انکی ضمانتیں منسوخ کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کرے، عدالت وائس چانسلر کیآفس کیاحترام میں انہیں توہین عدالت کینوٹس جاری نہیں کررہی، انہیں واضح کیاجائے آئندہ اس معاملے کا خیال رکھاجائے ،عدالت نے ریمارکس دیئیجامعہ پنجاب کا ہمارے شہر کے ایکو سسٹم میں بہت اہم کردار ہے، ایل ڈی اے کے میاواکی فارسٹس کے حوالے سے بھی رپورٹ جمع کروائیں، پی ایچ اے کو لاہور کے درختوں کے محافظ کے طور پر کردار ادا کرنا ہے، شہری منصوبوں میں درختوں کو لازمی برقرار رکھنے کی شق رولز میں شامل کی جائے،عدالتی فیصلوں کوپینٹنگ سمجھنے کی بجائے عملدرآمد کیاجائے،وکیل پنجاب یونیورسٹی شہزاد شوکت نے کہا پانچ سو نئے درخت لگادئیے گئے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت6 مارچ تک ملتوی کر دی۔