پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کا سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس میں احتجاج

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے باہرپی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے پریس کانفرنس میں کہاہے کہ 10 فروری 2026 کو ہماری پٹیشن لگی جو کہ 2023 کو دائر کی تھی ،اس وقت جب ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ہو رہا ہے ،اس وقت ان کو اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا کیسے ایک اوپن شیڈ ہے سامنے جنگل ہے ،یہ بڑے بڑے بلب لگا دیتے ہیں جس سے پتنگے آتے تھے، بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ بارش ہوئی ہے اور کوئی چارپائی بھی نہیں دی گئی اور نہ کوئی کوئی گدا دیا تھا ،اس وقت کے تین ججز کے بینچ نے یہ کیس سنا ،انہوں نے حکم دیا کہ بانی کی لیونگ اسٹینڈرڈ بارے بتایا جائے ،پھر تو چیف جسٹس بھی تبدیل ہو گئے پھر یہ کیس غائب ہو گیا ،اس کے بعد یہ اب کیس لگا جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ کیس اب غیر موثر ہو چکا ہے ،میں نے بتایا کہ اب تو صورتحال اس سے بھی مختلف ہے ،اب تو ان کی آنکھ کا مسئلہ ہے۔ اور وہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔بانی سے کسی کو ملاقات کرنے کی اجازت نہیں نہ فیملی کو اور نہ ہی ہمارے وکلا کو ملنے دیا گیا۔پھر اس کے بعد فرینڈ اف کورٹ بنا کر سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل بھیجا گیا۔پھر یہ 12 تاریخ کو یہ دوبارہ لگی تو مجھے کہا گیا کہ آپ کی درخواست تو اب غیر موثر ہو چکی ہیں ،تو میں نے بتایا کہ یہ غیر موثر نہیں ہو چکی ہیں ،اس کے بعد وہ توشہ خانہ والے معاملے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی تھی ،پھر اس کے بعد جو سزا دی گئی اس کے بعد اس میں تو عدالت عظمی اور سپریم کورٹ کے حکم نامے کو بھی مدنظر نہیں رکھا