اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان حکومت وفاقی حکومت اور مسلح افواج سے مکمل تعاون کر رہی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں آپریشن کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں تو وزیراعظم شہباز شریف آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو ایک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورت حال کا موازنہ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اجلاس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورت حال کا موازنہ کیا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہیں تھا، جبکہ بلوچستان حکومت وفاق اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ متعدد مواقع پر صوبے میں آپریشن نہ ہونے دینے کی بات کر چکے تھے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
وزیراعظم مذاکرات کے لیے تیار ہیں
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ماضی میں ان سیاسی رہنماؤں سے بھی رابطے کیے جو 126 روز تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے۔انہوں نے مولانا عبدالواسع سے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان سے بات کریں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آج بھی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا بھی ناگزیر ہے۔رانا ثنا اللہ نے حالیہ مذاکرات کے ڈرافٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں متعدد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے ایک نکتے پر اختلاف برقرار رہا۔
اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے معاملے پر بھی گفتگو
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کو وزیراعظم سے ملاقات کی تجویز دی گئی تھی، تاہم ان کے بقول انہوں نے اس سے انکار کیا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق انہیں اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ملاقات کی تجویز بھی دی گئی، لیکن انہوں نے اسپیکر کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔انہوں نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف نے اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا تو انتخابات کے لیے ستمبر کے پہلے ہفتے کی تاریخ پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کرکے جواب دیں گے، تاہم بعد میں اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا گیا۔
فوجی جوانوں کی قربانیوں کا ذکر
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب فوجی جوان شہادتیں پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی ملاقاتوں کے دوران اداروں کے سربراہان کے خلاف تحقیر آمیز بیانیہ سامنے آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے قواعد اور قانون کے تحت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کے معاملے میں متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا ذکر کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جماعت کی جانب سے 20 لاکھ افراد لا کر حملہ آور ہونے کی بات کی گئی تھی۔ یہ بیان انہوں نے سیاسی کشیدگی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے تناظر میں دیا۔
معدنیات والے اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق مشعال اعظم کے سوالات
اجلاس میں سینیٹر مشعال اعظم نے خیبرپختونخوا میں معدنیات سے مالا مال اضلاع میں ایمرجنسی اور دیگر علاقوں میں گورنر راج سے متعلق دعووں پر سوالات اٹھائے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا صوبائی اسمبلی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کوئی قرارداد پیش کی گئی تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات تو پیش کی گئیں، لیکن یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔مشعال اعظم نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے چند روز بعد ہی بین الاقوامی اداروں کو معدنیات نکالنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اس صورت حال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مزید تقسیم کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔انہوں نے محسن نقوی، بیرسٹر سیف اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق رابطوں اور ملاقاتوں کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ کونسل کے چھ ارکان معذرت کرچکے ہیں، جبکہ ان کے بقول اس میں دو ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جو دو سال قبل وفات پا چکے ہیں۔
مولانا عبدالواسع نے بلوچستان کے مسائل اجاگر کردیے
سینیٹر مولانا عبدالواسع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بیک وقت دہشت گردی اور حکومتی کارروائیوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں کمشنر کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور مقامی لوگ تاوان کی رقم جمع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔مولانا عبدالواسع کے مطابق بلوچستان میں روزگار اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو صوبے کے مسائل حل کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
افنان اللہ خان نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اعدادوشمار پیش کیے
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات حالیہ عرصے میں دریافت نہیں ہوئیں، اس لیے گورنر راج کو صرف معدنی وسائل سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر ملک اور حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے تقریباً تین ہزار واقعات پیش آئے۔ انہوں نے صوبے میں بے روزگاری اور شرح خواندگی کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔افنان اللہ خان نے ماضی کے سیاسی دھرنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں سے ملک کے اہم معاملات اور بین الاقوامی دورے بھی متاثر ہوئے تھے۔
فلک ناز چترالی کا مؤقف: ہم امن چاہتے ہیں
سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایمرجنسی یا گورنر راج سے خوف زدہ نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو گزشتہ چار برس کے دوران سیاسی مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ انتخابی نشان سے محرومی اور قیادت کی گرفتاریوں کے باوجود عوام نے ان کی جماعت کو ووٹ دیا۔انہوں نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مینڈیٹ سے متعلق اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت امن چاہتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں افراد قربانیاں دے چکے ہیں۔فلک ناز چترالی نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ صرف مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے؟ انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی اور امن کی ضرورت پر زور دیا۔
عون عباس بپی نے سیاسی گرفتاریوں پر تنقید کی
سینیٹر عون عباس بپی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں شام کے بعد سفر کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، پارٹی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کے اہل خانہ کی گرفتاریوں پر بھی اعتراض کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو گرفتاریوں اور دباؤ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیاسی انتقام کی فضا مستقبل میں مزید تلخیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
گردیپ سنگھ نے گورنر راج پر سوال اٹھا دیے
سینیٹر گردیپ سنگھ نے کہا کہ ان کے خیال میں خیبرپختونخوا میں ایسے حالات نہیں تھے کہ وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ ماضی میں بھی موجود رہا ہے اور نائن الیون کے بعد اس میں مزید شدت آئی۔ان کے بیان میں صوبے میں انتظامی اقدامات اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔
ناصر بٹ کی پی ٹی آئی پر تنقید
سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی ذمہ داری بھی پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جماعت کی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بجائے بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، جبکہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو تعاون کرنا چاہیے۔
سینیٹ اجلاس میں سیاسی اختلافات نمایاں رہے
سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان، بلوچستان میں دہشت گردی، گورنر راج، سیاسی گرفتاریوں اور مذاکرات کے معاملے پر مختلف مؤقف پیش کیے۔حکومتی ارکان نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور سیاسی تعاون پر زور دیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے صوبے میں حکومتی اقدامات، گورنر راج اور سیاسی معاملات پر سوالات اٹھائے۔