26نومبر سیاسی جماعت کی سازش تھی 9 مئی افواج پاکستان نہیں ‘عوام کا مقدمہ ہے ترجما ن پاک فوج

 پاک فوج کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری اور پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، اس تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈرز قابل احترام ہیں، خوش آئند ہے  سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے معاملات حل کریں نہ کہ انتشاری انداز اپنایا جائے
کسی سیاسی لیڈر کی اقتدار کی خواہش پاکستان سے بڑھ کر نہیں، 9 مئی کے اصل کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا ،غلطی سے نہ سیکھنے والے لیڈر کے رویئے کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے
فیض حمید کا معاملہ حساس ہے اس پر تبصروں سے گریز کیا جائے ،معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، سیاست کو ریاست پر مقدم رکھنے والوں کو جواب دینا ہو گا،خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، گورننس کے خلاء کو شہداء کے خون سے پورا کررہے ہیں
دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے اور شواہد افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں تک جاتے ہیں،بھارت خطے میں چودھراہٹ  کی کوشش کررہا ہے ،پاک بھارت سرحدوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی ( آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاہے  9مئی افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں یہ عوام پاکستان کامقدمہ ہے ،انصاف کا سلسلہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک جاری رہے گا،نوجوانوں، بچوں کو زہریلا پروپیگنڈا کرکے ریاست اور اداروں کیخلاف کھڑا کیاگیا،فیض حمید کا معاملہ حساس ہے اس پر تبصروں سے گریز کیا جائے ،۔ سیاست کو ریاست پر مقدم رکھنے والوں کو جواب دینا ہو گا،پاکستان اور افغانستان دونوں پڑوسی اسلامی برادر ملک ہیں، افغان عبوری حکومت دہشتگرووں کو پاکستان پر مقدم نہ رکھیں،دہشتگردی کے واقعات کے تانے بانے اور شواہد افغانستان میں موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں تک جاتے ہیں،کے پی کے میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، گورننس کے خلاء کو شہداء کے خون سے پورا کررہے ہیں ،جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، اور بے شمار قربانیاں دیں ، رواں سال 59 ہزار 775 کامیاب آپریشنز کئے گئے، سکیورٹی فورسز نے 2024 میں مختلف آپریشنز کے دوران 925 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ سیکڑوں گرفتار ہوئے، آپریشنز میں 27 افغان دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر 169سے زیادہ آپریشنز کیے جارہے ہیں، دہشتگردی کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا، آپریشنز کے دوران دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا، بلوچ دہشتگردوں کے انتہائی مطلوب سرغنہ کو بھی جہنم واصل کیا گیا، دہشتگرد معصوم لوگوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے نوجوانوں کو استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو قومی دھارے میں شامل کیا، سال 2024 میں 383 بہادر آفیسرز اور جوانان نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم مسلح افواج کے بہادر سپوتوں اور لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، دہشتگردی کی یہ جنگ آخری دہشتگرد اور خوارج کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا رواں سال ایک اور بڑی کامیابی دو افغان خود کش بمباروں کی گرفتاری ہے ان دہشتگردوں نے ہوشربا انکشافات کئے ۔ گرفتار دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والوں کو پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے دل و جان سے کوشش کی ۔ تاہم افغانستان سے دہشتگرد مسلسل حملے کر رہے ہیں ۔ پاکستان نے طویل عرصے تک افغا نیوں کی میزبانی کی آرمی چیف افغانستان سے دہشتگردی کے خلاف دو ٹوک موقف رکھتے ہیں ۔ ، دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان تک جاتے ہیں، دہشتگردروں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا پاک فوج بھارت کے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم رکھا، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و ستم دنیا کے سامنے ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا دہشتگردی کے ناسور کے خلاف پوری قوم نے اداروں کے ساتھ ملکر لڑنا ہے کیونکہ محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اس وقت ختم ہو گی جب انصاف، تعلیم، صحت اور گڈ گورننس ہو گی، دہشتگردی اس وقت ختم ہو گی جب دہشتگردی اور جرائم کا گٹھ جوڑ ختم ہوگا، انہوں نے کہا 8 لاکھ سے زائد غیرقانونی مقیم افغانوں کو واپس بھجوایا جا چکا ہے، ملک کے ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، احساس محرومی کا جھوٹا، مصنوعی بیانیہ بنایاجاتا ہے، بلوچستان میں احساس محرومی کے جھوٹے بیانے کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا دو سال سے افغان عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت اور رابطہ جاری ہے ، ہم ان سے ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک برادر ملک ہیں، افغان حکومت کو باور کرایا جاتا ہے کہ فتنہ الخوارج اور سہولت کاری کو روکیں، واضح پالیسی عمل میں ہے، افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، ڈیجیٹل سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے لیگل اور ٹیکنیکل ایکشن لیے جا رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے مذاکرات میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا پاک فوج کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری اور پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، اس تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈرز قابل احترام ہیں، خوش آئند ہیکہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے معاملات حل کریں نہ کہ انتشاری انداز اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا 9 مئی کے پیچھے مربوط سازش اور منصوبہ بندی تھی، اس منصوبہ بندی اور سازش میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، نومبر میں ہونے والے دھرنے میں فوج کے کردار اور ہونے والی اموات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا یکم دسمبر کو وزارت داخلہ نے اس حوالے سے مفصل اعلامیہ جاری کیا تھا، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فوج کو پرتشدد ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات نہیں کیا گیا تھا، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی جبکہ سیاسی قیادت کے مسلح گارڈ اور ہجوم میں شامل لوگوں کے پاس آتشی اسلحہ تھا، مظاہرین کے پاس اسلحہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھا بھی، بے معنی ہنگامہ آرائی سے توجہ ہٹانے کے لیے فیک نیوز کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کسی خاص سیاسی جماعت یا نظریہ کی نہ مخالف ہے نا حمایتی، 26 نومبر کی سازش کے پیجھے سوچ سیاسی دہشتگردی کی ہے، 26 نومبر کو ہزاروں کارکنوں کی شہادت کا جھوٹ پھیلایا گیا، ان کو اعتماد ہے کہ یہ کوئی بھی جھوٹ بیچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج نہیں پوری قوم لڑ رہی ہے ۔ اس اصول کا تعین نیشنل ایکشن پلان میں موجود ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان میں بھتہ خوری اور سمگلنگ کا سپیکٹرم موجود ہے غیر قانونی سپیکٹرم کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے فیک نیوز بھی اس سپیکٹرم کا حصہ ہیں ۔ ، جسے توڑنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا گورننس میں موجود خامیاں اپنے شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا نو مئی افواج پاکستان کا نہیں عوام کا مقدمہ ہے اگر کوئی مسلح جتھہ یا گروہ اس طریقے سے معاشرے پر مسلط کرنا چاہے تو ایسا ہر گز نہیں ہونے دیا جائے گا ، جتھوں کے حملو ں کو نہ روکا تو پھر معاشرہ کہاں جائے گا ۔ انہوں نے کہا فوجی عدالتیں پاکستان میں آئئین کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں ۔ جو آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوے سزا دیتی ہیں۔ آئین اور قانون کے مطابق نو مئی کے مجرموں کو سزا دینے کا عمل مکمل ہو چکا۔ سزا یافتہ افراد کے پاس اپیل کا حق حاصل ہے ۔ کسی بھی ملزم کو گواہ پیش کرنے وکیل کرنے سمیت تمام قانون حق حاصل ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کچھ عرصہ پہلے بیانیہ بنایا گیا کہ نو مئی کے حملے ایجنسیوں نے کرائے ۔ اب انتشاریوں کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ایجنسیوں کے بندوں کو سزائیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا فوجی عدالتوں کئے خلاف پروپیگندہ کیا جا رہا ہے ۔ جو لوگ فوجی عدالتوں کے مخالف ہیں کچھ عرصہ پہلے تک ان عدالتوں کے داعی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دشمن پریشان ہے کہ باوجود انتشاریوں ، سازشیوں اور پروپیگنڈے کے پاکستان آ گے جا رہا ہے ۔  انہوں نے سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات خوش آئیند ہیں ۔ ان کو چاہیے کہ مسائل انتشاری سیاست کے بجائے مذاکرات سے حل کریں ۔ انہوں نے کہا نو مئی کے پیچھے ایک مربوط سازش تھی جو اس سازش کے پیچھے تھے انھیں کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا فیض حمید کیس حساس معاملہ ہے اس پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کیا جائے ۔ فوج کا خود ا حتسابی کا نظام بہت جامع ہے۔ سیاست کو ریاست پر مقدم رکھنے والوں کو جواب دینا ہو گا ۔ انہوں نے کہا چھبیس نومبر کو جب سیاسی قیادت بھاگی تو سوشل میڈیا پر فیک پروپیگنڈہ کیا گیا ۔ کوشش کی گئی پہلے سے موجود ک خلفشار کو بڑھایا جائے ۔ انہوں نے کہا چھبیس نومبر کو سیاسی احتجاج نہیں دہشتگردی تھی ۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے دہشتگرد ہیں انہوں نے کہا انتشاری سیاست کا کنٹرول ملک سے باہر بیٹھے سازشی ٹولوں سے ہو ر ہا ہے ۔ یہ لوگ کشمیر ، غزہ اور لیبنیا میں ہونے والے مظالم کے لئے سوشل میڈیا پر آواز کیوں نہیں اٹھا رہے۔ انہوں نے کہا کرم اور پاراچنا میں پیچیدہ قبائلی ایشو ہے ۔ اس کو فرقہ ورانہ رنگ نہ دیا جائے کرم کا مسئلہ صوبائی حکومت نے حل کرنا ہے ۔ یہ ملبہ ادروں پر نہیں ڈالنا چاہیے ۔  پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے ۔ ہم سب نے مل کر ملک کو بہتری کی طرف لے جانا ہے ۔ کسی کے اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہو سکتی ۔