عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو ایک بار پھر کم ہو گئیں، جس کے بعد مسلسل دو ہفتوں سے جاری اضافے کا سلسلہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
اس کمی کے باوجود، ایران کے معاملے پر امریکا کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس نے تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، جمعہ کو برینٹ خام تیل کے ستمبر فیوچرز میں 25 سینٹ، یعنی 0.3 فیصد کمی ہوئی، اور اس کی قیمت 89.45 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ اسی طرح، امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 22 سینٹ، یعنی 0.3 فیصد کم ہوکر 83.31 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ہفتہ وار بنیاد پر، برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5.3 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 4.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کوئی کمی نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کو دوبارہ بحال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، واشنگٹن نے ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں امریکا نے "تاریخ کی سخت ترین پابندیاں" قرار دیا ہے۔ تہران نے ان پابندیوں کو غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔ عالمی سطح پر دیگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی جاری ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر برطانوی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا، تو برطانیہ کے فوجی ہدف بھی نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔ ادھر، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نیٹو کے کسی ملک پر حملہ نہیں کریں گے، اور انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کو بھی کم اہمیت دی ہے۔