امریکہ میں حالیہ دنوں میں ایک اہم اور ہنگامی فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے سائنسی اور تحقیقی شعبہ میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی نیشنل سائنس بورڈ (National Science Board) کو مکمل طور پر تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ادارہ امریکہ کی سائنسی پالیسی اور تحقیقاتی فنڈنگ کے اہم فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتا تھا اور 1950 سے امریکہ کی سائنسی اور انجینئرنگ پالیسی کے اہم ستون کے طور پر کام کر رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے 22 ارکان پر مشتمل اس بورڈ کو بغیر کسی وضاحت یا وجوہات کے فوری طور پر برخاست کر دیا ہے۔ برطرفی کا یہ عمل ای میل کے ذریعے نوٹس جاری کرنے کے ذریعے کیا گیا، جو کہ ایک غیر معمولی اور متنازعہ طریقہ ہے کیونکہ عموماً ایسے اہم اداروں کی برطرفی میں وضاحت اور وضاحت طلب عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیشنل سائنس بورڈ کا کردار اہم تھا کیونکہ یہ ادارہ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (National Science Foundation) کی پالیسی اور فنڈنگ کا نگرانی کرتا تھا۔ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن ہر سال تقریباً 9 ارب ڈالرز کی تحقیقاتی اور ترقیاتی فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔ یہ ادارہ بڑے سائنسی اور انجینئرنگ پروجیکٹس کی منظوری دیتا اور امریکہ کے سائنسی معیار کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ وجوہات اور اثرات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی بنیادوں پر امریکی سائنسی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کے سائنسی شعبے میں حکومتی کنٹرول کو مزید سخت کرنے کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ کی سائنسی تحقیق میں کمی آئے، جدید تحقیقات اور عالمی تعاون متاثر ہو، اور امریکہ کی سائنسی برتری کو دھچکا لگے۔عالمی سطح پر، اس خبر نے سائنسی برادری اور تحقیق کے شعبوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا سائنسی اور تحقیقی ملک سمجھا جاتا ہے، اور اس کے فیصلے بہت سے ممالک کے لیے مثال ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے امریکہ کے مستقبل کے سائنسی پراجیکٹس، فنانسنگ اور عالمی سائنسی تعاون پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔