امریکا ، ایران آن لائن مذاکرات جاری

 مرحلہ وار مذاکرات ،پہلے دوبارہ جنگ نہ ہونیکی ضمانت :ایرانی وزیر خارجہ
واشنگٹن / اسلام آباد / دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ذرائع کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں بدستور جاری ہیں، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ایلچیوں کا دورہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں منسوخ کیے جانے کے بعد براہِ راست سفارتکاری نہیں ہو رہی۔ایرانی ذرائع نے پیر کے روز تہران کی تازہ تجویز کا انکشاف کیا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور خلیج میں جہاز رانی سے متعلق تنازعات کے حل تک مئوخر کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ تجویز واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ کا موقف ہے کہ جوہری معاملات پر ابتدا ہی سے بات ہونی چاہیے۔امن کی کوششوں کی بحالی کی امیدیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب امریکی صدر نے ہفتے کے روز اپنے ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا۔ اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے اختتام پر دو مرتبہ آنا جانا کیا تھا۔عراقچی نے ہفتے کے آخر میں عمان کا بھی دورہ کیا اور پیر کے روز روس گئے، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی اور ایک دیرینہ اتحادی کی جانب سے حمایت کے بیانات حاصل کیے۔سینئر ایرانی ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے اختتام پر عباس عراقچی کی جانب سے اسلام آباد لائی گئی تجویز میں مرحلہ وار مذاکرات کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں ابتدائی مرحلے پر جوہری مسئلے کو ایک طرف رکھا جائے گا۔پہلے مرحلے میں امریکا-اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے اور اس بات کی ضمانت درکار ہوگی کہ واشنگٹن اسے دوبارہ شروع نہیں کر سکے گا۔ اس کے بعد مذاکرات کار امریکی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق معاملات حل کریں گے، جسے ایران اپنی نگرانی میں دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔تبھی دیگر معاملات پر بات چیت آگے بڑھے گی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دیرینہ تنازع بھی شامل ہے۔ ایران اب بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکا کسی نہ کسی شکل میں اس کے یورینیم افزودگی ) کے حق کو تسلیم کرے، جسے وہ اپنے بقول پْرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔پس منظر میں، ایران کا مئوقف یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو معاہدے کے تحت ہر ملک کو پْرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے، جس میں تحقیق اور ایندھن کی تیاری شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ یہی افزودگی مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتی ہے، اسی لیے یہ معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے۔چونکہ متحارب فریقین ایران کے جوہری عزائم اور اہم آبنائے ہرمز سے گزرنے کے معاملات سمیت کئی امور پر اب بھی ایک دوسرے سے کافی دور نظر آتے ہیں، اس لیے پیر کو تجارت دوبارہ شروع ہونے پر تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3.5 فیصد اضافے کے ساتھ 1500 جی ایم ٹی تک تقریباً 108.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اس بات کے اشارے کے طور پر کہ فی الحال آمنے سامنے ملاقاتوں کا کوئی امکان نہیں، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں، جنہیں ایک ہفتے تک اْن مذاکرات کی توقع میں بند رکھا گیا تھا جو آخرکار ہو ہی نہیں سکے۔ وہ لگڑری ہوٹل بھی، جسے مذاکرات کے مقام کے طور پر خالی کرایا گیا تھا، دوبارہ عوام کے لیے بکنگ لینے لگا ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات اب بھی جاری ہیں، لیکن یہ آن لائن یا بالواسطہ طور پر ہو رہے ہیں، اور اس وقت تک کسی براہِ راست ملاقات کا منصوبہ نہیں جب تک فریقین اس حد تک قریب نہ آ جائیں کہ کسی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم) پر دستخط کیے جا سکیں۔ دونوں فریق بظاہر ایک دوسرے کے خلاف صبر آزما مقابلے کی پوزیشن میں ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ کون معاشی دبائو کو زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا ہے اور کب رعایت دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے گزرنے والی تقریباً تمام جہاز رانی، سوائے اپنی جہازوں کے، بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ اس کے جواب میں، امریکا نے اس ماہ ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ دنوں میں ایرانی تیل سے بھرے چھ ٹینکرز کو امریکی ناکہ بندی کے باعث واپس جانا پڑا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ نے سمندری آمدورفت پر کس قدر اثر ڈالا ہے۔جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 125 سے 140 جہاز آبنائے سے گزرتے تھے، لیکن گزشتہ ایک دن میں صرف سات جہازوں نے یہ راستہ اختیار کیا، اور ان میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔