کشمیری نوجوانوں کو بغیر کسی ثبوت کے دہشتگرد قرار دے کر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی
نئی دہلی (آئی این پی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پہلگام حملے کے بعد اپنی روایتی چالاکیوں کے تحت ایک بار پھر مقامی کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی مہم تیز کر دی ہے۔ 26 افراد کی ہلاکت کے بعد، بھارت نے اپنی بدترین ناکامیوں کا ملبہ کشمیر کی حریت پسند تحریک پر ڈالنے کی مذموم کوشش شروع کر دی گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نے اننت ناگ، شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں سرگرم 14 کشمیری نوجوانوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جنہیں بغیر کسی ثبوت کے دہشتگرد قرار دے کر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے ایک فہرست جاری کی ہے، جن نوجوانوں کو نشانہ بنایا جائے گا ان میں احسان الحق، عادل رحمان ڈیٹو، حارث نذیر، ناصر احمد وانی اور شاہد احمد کٹے شامل ہیں۔ اسی طرح احمد شیخ، عامر نذیر وانی، یاور احمد بھٹ اور آصف احمد کانڈے، زبیر احمد وانی، ہارون رشید غنی اور زبیر احمد غنی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ان مجاہدین پر بھارت نے بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ وادی میں حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔