نئی دہلی نے کشیدگی نہ بڑھائی توپاکستان بھی فوجی کارروائی سے گریزکریگا، ان باتوں کا الزام لگا رہا ہے جن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں،وزیردفاع
خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے،کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی اقدام میں پہل چاہتے ہیں،روسی میڈیا کو انٹرویو
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے دراندازی کی یا حملہ کیا تو متناسب سے زیادہ جواب دیاجائیگا،بھارت پاکستان پر ان باتوں کا الزام لگا رہا ہے جن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک بھارت کشیدگی پر روسی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے، بھارت ان باتوں کا الزام لگا رہا ہے جن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اگر بھارت نے دراندازی کی یا حملہ کیا تو پھر متناسب سے زیادہ جواب دیاجائیگا۔ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی اقدام میں پہل چاہتے ہیں۔ بھارت نے کشیدگی نہ بڑھائی تو پاکستان بھی فوجی کارروائی سے گریز کرے گا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان مغرب بالخصوص امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا نشانہ بنا، ماضی میں سوویت افغان جنگ کا حصہ بننا پاکستانی حکومتوں کی غلطی تھی۔انہوں نے کہا کہ سوویت افغان جنگ کا حصہ بننے کے نتیجے میں پاکستان میں جہادی نظریات اور ٹریننگ شروع ہوئی، مغرب کے ایجاد کردہ جہاد کے نتیجے میں ملک کی اخلاقیات تبدیل ہو گئیں اور موجودہ صورتحال نے جنم لیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان نے امریکا کو ہر ممکن مدد فراہم کی، نائن 11 حملوں کے بعد پاکستان نے دوبارہ مغربی اتحاد میں شمولیت اختیار کی، اس کے بعد ہماری سرزمین سے امریکہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں۔انکا کہنا تھا کہ میری عاجزانہ رائے میں یہ دونوں جنگیں ہماری نہیں تھیں، پاکستان ماضی کی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے، امریکا نے 80 اور 90 کی دہائی میں ہمیں چھوڑ دیا تھا، 2021 میں امریکا کے افغانستان سے تباہ کن انخلا نتیجے میں سکیورٹی صورتحال مزید تباہی کا شکار ہوئی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پشتون پاکستان اور افغانستان دونوں جانب آباد ہیں، 60 لاکھ کے قریب بغیر قانونی دستاویزات کے افغانی پاکستان میں موجود ہیں، پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اب اس کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں۔